اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 68

اصحاب بدر جلد 2 68 حضرت ابو بکر صدیق رخصت کرنے کے بعد چند منزلیں طے کر کے رسول کریم ملی ایام مدینہ پہنچ گئے۔مدینہ کے لوگ بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہے تھے اور اس سے زیادہ ان کی خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی تھی کہ وہ سورج جو مکہ کے لئے نکلا تھا مدینہ کے لوگوں پر جا طلوع ہوا۔جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی ال کی مکہ سے غائب ہیں۔“ یعنی مدینہ والوں کو تو وہ اسی دن سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ان کے وفد روزانہ مدینہ سے باہر کئی میل تک آپ کی تلاش کے لئے نکلتے تھے اور شام کو مایوس ہو کر واپس آجاتے تھے۔جب آپ مدینہ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ پہلے آپ قبا میں جو مدینہ کے پاس ایک گاؤں تھا ٹھہریں۔ایک یہودی نے آپ کی اونٹنیوں کو آتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ قافلہ محمد رسول اللہ صلی علیکم کا ہے۔وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور اس نے آواز دی۔اے قیلہ کی اولاد ! (قیلہ مدینہ والوں کی ایک دادی تھی سوقیلہ کی اولاد کے نام سے بھی وہاں کے لوگوں کو پکارا جاتا تھا۔” تم جس کے انتظار میں تھے آگیا ہے۔اس آواز کے پہنچتے ہی مدینہ کا ہر شخص قبا کی طرف دوڑ پڑا۔قبا کے باشندے اِس خیال سے کہ خدا کا نبی ان میں ٹھہر نے کے لئے آیا ہے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔اس موقع پر ایک ایسی بات ہوئی جو رسول اللہ صلی الی یکم کی سادگی کے کمال پر دلالت کرتی تھی۔مدینہ کے اکثر لوگ آپ کی شکل سے واقف نہیں تھے۔جب قبا سے باہر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھاگتے ہوئے مدینہ سے آپ کی طرف آرہے تھے تو چونکہ رسول اللہ صلی علی کم بہت زیادہ سادگی سے بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ناواقف لوگ حضرت ابو بکر کو دیکھ کر جو عمر میں گو چھوٹے تھے مگر ان کی داڑھی میں کچھ سفید بال آئے ہوئے تھے اور اسی طرح ان کا لباس رسول اللہ صلی للی کم سے کچھ بہتر تھا، یہی سمجھتے تھے کہ ابو بکر رسول اللہ صلی علیہ کم ہیں اور بڑے ادب سے آپ کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔حضرت ابو بکر نے جب یہ بات دیکھی تو سمجھ لیا کہ لوگوں کو غلطی لگ رہی ہے۔وہ جھٹ چادر پھیلا کر سورج کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا یار سول اللہ ! آپ پر دھوپ پڑ رہی ہے میں آپ پر سایہ کرتا ہوں اور اس لطیف طریق سے انہوں نے لوگوں پر ان کی غلطی کو ظاہر کر دیا۔“ اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بخاری کا ایک حوالہ درج فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”بخاری میں براء بن عازب کی روایت ہے کہ جو خوشی انصار کو آنحضرت صلی الیکم کے مدینہ تشریف لانے کے وقت پہنچی تھی ویسی خوشی کی حالت میں میں نے انہیں کبھی کسی اور موقع پر نہیں دیکھا۔ترمذی اور ابن ماجہ نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت صلی یکم تشریف لائے تو ہم نے یوں محسوس کیا کہ ہمارے لیے مدینہ روشن ہو گیا اور جب آپ فوت ہوئے تو اس دن سے زیادہ تاریک ہمیں مدینہ کا شہر کبھی نظر نہیں آیا۔استقبال کرنے والوں کی ملاقات کے بعد آنحضرت صلی علیم کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر تاریخ میں نہیں آیا سیدھے شہر کے اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ دائیں طرف ہٹ کر مدینہ کی بالائی آبادی میں جو 188"