اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 67
اصحاب بدر جلد 2 67 184 حضرت ابو بکر صدیق 185 ہوئے۔پیر کے دن مکہ سے نکلے اور پیر کے دن مدینہ پہنچے اور پیر کے دن آپ کی وفات ہوئی۔83 قبا ایک کنویں کا نام تھا جس کی نسبت سے بستی کا نام بھی قبا مشہور ہو گیا جہاں انصار کے قبیلہ بنو عمر و بن عوف کے لوگ آباد تھے۔یہ بستی مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر تھی۔بعض کے نزدیک قبا کا فاصلہ مدینہ سے تین میل تھا۔اس کو عالیہ بھی کہتے ہیں۔مدینہ میں مسلمانوں نے رسول اللہ صلی علی یم کی ملکہ سے روانگی کا سن لیا تھا۔وہ ہر صبح حرہ تک جایا کرتے تھے اور آپ کا انتظار کرتے۔مدینہ دو حروں کے درمیان ہے۔حرہ سیاہ پتھریلی زمین کو کہتے ہیں۔مدینہ کی مشرق کی جانب حرّة وارقم ہے جس کو حرة بنو قریظہ بھی کہتے ہیں اور دوسر احرة الوبرة ہے جو مدینہ کے مغرب میں تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔یہاں تک کہ دو پہر کی گرمی انہیں لوٹا دیتی۔صبح جاتے، انتظار کرتے اور دو پہر کو واپس آجاتے۔ایک دن مدینہ والے وہ لوگ کافی دیر انتظار کے بعد لوٹے۔پھر جب وہ اپنے گھر وں میں پہنچے تو ایک یہودی شخص اپنے قلعوں میں سے ایک قلعہ پر کسی کام کے لیے چڑھا تا کہ وہ اس کو دیکھے تو اس نے رسول اللہ صلی اہم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔سراب ان سے ہٹ رہا تھا۔یہودی اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے اپنی بلند آواز سے کہا۔اے عرب کے لوگو! یہ تمہارے وہ سردار ہیں جن کا تم انتظار کر رہے ہو تو مسلمان ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرہ کے میدان میں رسول اللہ صلی می نام سے جاملے۔آپ صلی یہ کام ان سمیت داہنی طرف مڑے یہاں تک کہ آپ بنو عمر و بن عوف کے محلے میں ان کے ساتھ اترے اور یہ سوموار کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ۔حضرت ابو بکر لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی لیلی کلی خاموش تشریف فرما تھے اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللیل کم کو نہیں دیکھا تھا، آئے اور حضرت ابو بکر کو سلام کرنے لگے۔یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ صلی اللہ ظلم پر پڑنے لگی۔حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور انہوں نے آپ صلی للی کم پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔اس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی علیکم کو پہچان لیا اور رسول اللہ صلی علی کم بنو عمرو بن عوف کے محلے میں دس سے زائد را تیں یا بخاری کی ایک روایت کے مطابق چودہ راتیں ٹھہرے اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ ولیم نے نماز پڑھی۔186 بخاری کی اس روایت کے مطابق رسول کریم صلی الی یکم نے دس سے زائد را تیں قبا میں قیام فرمایا۔ایک روایت کے مطابق رسول کریم صلی اللہ ہم نے بنو عمر و بن عوف یعنی قبا میں سوموار ، منگل، بدھ اور جمعرات ، چار دن قیام فرمایا اور جمعہ کو مدینہ کی طرف نکلے۔ایک اور روایت میں ذکر ہے کہ آپ نے بائیس را تیں قیام فرمایا۔187 حضرت مصلح موعود رسول کریم کلام کی قبا میں آمد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” سراقہ کو