اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 56

اصحاب بدر جلد 2 56 حضرت ابو بکر صدیق دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشان پایہاں تک ہی آکر ختم ہو جاتا ہے لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہو گا ؟ مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے کبوتر نے انڈے دیئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھتے آئے ہیں لیکن آپ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ اپنے رفیق صادق صدیق کو فرماتے ہیں: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔اشارہ سے کام نہیں چلتا۔باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس امر کی پرواہ نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔آنحضرت صلی یک کم کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ ”اللہ جل شانہ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجودیکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی علیہ کی مع اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت صلی علیم کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دیئے اور اسی طرح اذنِ الہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھو کہ میں پڑ کر نا کام واپس چلے گئے۔56 156" غار ثور اور خاندان ابو بکر کے دلیرانہ کارنامے 155❝ 157 پھر روایت میں آتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق حضرت ابو بکر کے ہو نہار صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن ابو بکر رات کو غار ثور آتے اور دن بھر کی مکہ کی ساری خبریں دیتے۔ہدایات لیتے اور علی الصبح اس طور سے مکہ واپس چلے جاتے کہ جیسے رات مکہ میں ہی بسر کی ہو اور ساتھ ہی عامر بن فہیرہ کی ذہانت ہے کہ رات کو دودھ والی بکریوں کا دودھ دینے کے بعد بکریوں کے ریوڑ کو اس طرح واپس لاتے کہ حضرت عبد اللہ بن ابو بکر کے قدموں کے نشانوں کو بھی ساتھ ساتھ مٹادیا جاتا۔7 بعض سیرت نگاروں نے تو یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت اسماء روزانہ کھانا لے کر آیا کرتی تھیں۔لیکن یہ جو ہے بعید از قیاس بات ہے۔بعضوں کی یہ رائے صحیح ہے کہ اس خطرے کے عالم میں ایک خاتون کا روزانہ ادھر آنا راز فاش کرنے کے مترادف ہے اور جبکہ عبد اللہ بن ابو بکر روزانہ آرہے تھے تو پھر حضرت اسماؤ کے کھانا لانے کی کیا ضرورت ہو سکتی تھی۔بہر حال اللہ بہتر جانتا ہے۔لیکن تین دن اسی طرح گزر گئے۔مکہ والے جب قریبی جگہوں کی تلاش سے فارغ ہو کر ناکام ہو گئے تو انہوں نے باہم 158