اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 52

ناب بدر جلد 2 52 حضرت ابو بکر صدیق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں قریش مکہ کے اعلان اور نبی کریم صل اللی کم کا پیچھا کرنے کے بارے میں جو ذکر فرمایا ہے وہ اس طرح ہے کہ ”انہوں نے عام اعلان کیا کہ جو کوئی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اس کو ایک سو اونٹ انعام دیئے جاویں گے۔چنانچہ کئی لوگ انعام کی طمع میں مکہ کے چاروں طرف اِدھر ادھر نکل گئے۔خود رؤساء قریش بھی سراغ لیتے لیتے آپ کے پیچھے نکلے اور عین غارِ ثور کے منہ پر جاپہنچے۔یہاں پہنچ کر ان کے سراغ رسان نے کہا کہ بس سراغ اس سے آگے نہیں چلتا۔اس لئے یاتو محمد میہیں کہیں پاس ہی چھپا ہوا ہے ” (صلی اللہ علیہ وسلم)“ یا پھر آسمان پر اڑ گیا ہے۔کسی نے کہا کوئی شخص ذرا اس غار کے اندر جاکر بھی دیکھ آئے مگر ایک اور شخص بولا کہ واہ یہ بھی کوئی معقل کی بات ہے۔بھلا کوئی شخص اس غار میں جا کر چھپ سکتا ہے۔یہ ایک نہایت تاریک و تار اور خطر ناک جگہ ہے اور ہم ہمیشہ سے اسے اسی طرح دیکھتے آئے ہیں۔یہ بھی روایت آتی ہے کہ غار کے منہ پر جو درخت تھا۔اس پر آپ کے اندر تشریف لے جانے کے بعد مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور عین منہ کے سامنے کی شاخ پر ایک کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے تھے۔“ مرزا بشیر احمد صاحب کے خیال میں یہ روایت تو کمزور ہے لیکن اگر ایسا ہوا ہو تو ہر گز تعجب کی بات نہیں۔کمزور روایت ہے لیکن تعجب والی بات کوئی نہیں ہے کیونکہ مکڑی بعض اوقات چند منٹ میں ایک وسیع جگہ پر جالا تن دیتی ہے اور کبوتری کو بھی گھونسلا تیار کرنے اور انڈے دینے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔اس لیے اگر خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی حفاظت کے لیے ایسا تصرف فرمایا ہو تو ہر گز بعید نہیں ہے بلکہ اس وقت کے لحاظ سے ایسا ہونا بالکل قرین قیاس ہے۔بہر حال قریش میں سے کوئی شخص آگے نہیں بڑھا اور یہیں سے سب لوگ واپس چلے گئے۔آگے لکھتے ہیں کہ "روایت آتی ہے کہ قریش اس قدر قریب پہنچ گئے تھے کہ ان کے پاؤں غار کے اندر سے نظر آتے تھے اور ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔اس موقعہ پر حضرت ابو بکر نے گھبر اگر مگر آہستہ سے آنحضرت صلی للی نام سے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! قریش اتنے قریب ہیں کہ ان کے پاؤں نظر آرہے ہیں اور اگر وہ ذرا آگے ہو کر جھانکیں تو ہم کو دیکھ سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا یعنی ہر گز کوئی فکر نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پھر فرمایا: وَمَاظَنُّكَ يَا آبَابكر بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِعُهُمَا یعنی اے ابو بکر ! تم ان دو شخصوں کے متعلق کیا گمان کرتے ہو جن کے ساتھ تیسر ا خدا ہے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب قریش غار کے منہ کے پاس پہنچے تو حضرت ابو بکر سخت گھبراگئے۔آنحضرت صلی الم نے ان کی گھبراہٹ کو دیکھا تو تسلی دی کہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے رقت بھری آواز میں کہا: إِنْ قُتِلْتُ فَأَنَارَجُلٌ وَاحِدٌ وَإِنْ قُتِلْتَ أنْتَ هَلَكَتِ الْأُمَّةُ یعنی یا رسول اللہ ! اگر میں مارا جاؤں تو میں تو بس ایک اکیلی جان ہوں لیکن اگر خدانخواستہ آپ پر کوئی آنچ آئے تو پھر تو گویا ساری امت کی امت مٹ گئی۔اس پر آپ نے خدا تعالیٰ 66