اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 43

اصحاب بدر جلد 2 43 حضرت ابو بکر صدیق لاتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ابو بکر کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ، اللہ کی قسم نبی صلی ا یکم جو اس گھڑی میں ہمارے پاس تشریف لائے ہیں اس کی وجہ کوئی خاص بات ہے جو پیش آئی ہے اور ساتھ ہی حضرت ابو بکر گھبر ا کر تیزی سے فدایانہ انداز میں باہر نکلے اور جب نبی اکرم صلی ا لم اندر تشریف لائے تو کمرے میں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء تھیں۔آنحضرت صلی علی کرم نے حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ تمہارے پاس جو لوگ ہیں ان کو باہر بھیج دو جس پر حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا کہ حضور صرف یہی میری دو بیٹیاں اس وقت یہاں ہیں، اور کوئی نہیں ہے یا ایک روایت کے مطابق عرض کیا یا رسول اللہ ! صرف آپ کے گھر کے لوگ ہی یہاں ہیں اور کوئی نہیں۔چنانچہ آنحضرت صلیم نے فرمایا کہ ابو بکر مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر نے بے ساختہ عرض کیا یا رسول اللہ؟ آپ کی رفاقت ؟ یعنی میں بھی آپ کے ساتھ ہوں گا ؟ آپ صلی الم نے فرمایا ہاں۔یہ بخاری کی روایت ہے۔118 اس پر حضرت ابو بکر خوشی سے رو پڑے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ اس دن پہلی بار مجھے معلوم ہوا کہ خوشی سے بھی کوئی روتا ہے۔19 حضرت ابو بکر کے گھر میں ہجرت کی منصوبہ بندی اس کے بعد وہاں ہجرت کی ساری منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کیا گیا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اسی غرض کے لیے میں نے دو اونٹنیاں خریدی ہوئی تھیں۔ان میں سے ایک آپ لے لیں۔آپ نے فرما یا قیمت دے کر لوں گا اور آپ نے جب قیمت دینے پر اصرار کیا تو حضرت ابو بکر کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔دو اونٹنیاں حضرت ابو بکر نے آٹھ سو درہم میں خریدی تھیں اور چار سو درہم میں ایک اونٹنی نبی اکرم صلی علیہم نے خریدی یا ایک روایت کے مطابق نبی اکرم صلی ا ہم نے یہ اونٹنی آٹھ سو درہم میں خریدی تھی۔120 الله سة پھر یہ طے کیا گیا کہ پہلی منزل غارِ ثور ہو گی اور تین دن وہیں قیام کرنا ہو گا اور یہ بھی طے ہوا کہ کسی ایسے ماہر کو لیا جائے جو مکہ کے چاروں طرف کے تمام معروف اور غیر معروف صحرائی راستوں سے واقف ہو۔اس کے لیے عبد اللہ بن اریقط سے بات ہوئی۔یہ اگر چہ مشرک تھا لیکن شریف النفس اور ذمہ دار اور دیانت دار شخص تھا۔سیرت نگار اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں ہوا تھا تاہم ایک روایت کے مطابق اس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔بہر حال اس کے حوالے تین اونٹنیاں کی ئیں اور طے کیا گیا کہ وہ ٹھیک تین دن بعد غار ثور پر علی الصبح چلا آئے۔حضرت عبد اللہ بن ابو بکر جو ایک ہوشیار نوجوان تھے ان کے سپر د یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ روزانہ مکہ کی مجالس میں گھوم پھر کر جائزہ لیں گے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور پھر رات کو وہ غارِ ثور پہنچ کر ساری رپورٹیں کریں گے۔حضرت ابو بکر کے ایک دانا اور ذمہ دار غلام عامر بن فہیرہ کے سپرد یہ ڈیوٹی ہوئی کہ وہ اپنی بکریاں غار ثور کے گرد ہی