اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 452

حاب بدر جلد 2 452 حضرت ابو بکر صدیق اس کے بعد کبھی آپ پر موت نہیں آئے گی۔الجزء الثانی صفحہ ۶۲) فرماتے ہیں کہ اللہ کے لطیف احسانات میں سے جو اس نے آپ پر فرمائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال قرب کی جو خصوصیت آپ کو حاصل تھی، جیسا کہ ابن خلدون نے بیان کیا ہے وہ یہ تھی کہ ابو بکر اسی چارپائی پر اٹھائے گئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا گیا تھا۔اور آپ کی قبر کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی طرح ہموار بنایا گیا۔اور (صحابہ نے ) آپ کی لحد کو نبی کریم کی لحد کے بالکل قریب بنایا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے متوازی رکھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو آخری کلمہ ادا فرمایا وہ یہ تھا کہ (اے اللہ !) مجھے مسلم ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین میں شامل فرما۔(صفحہ ۷۶) 1046 ابو بکر ایک نادر روز گار، باخدا انسان تھے پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ابو بکر ایک نادر روز گار ، باخدا انسان تھے۔جنہوں نے اندھیروں کے بعد اسلام کے چہرے کو تابانی بخشی اور آپ کی پوری کوشش یہی رہی کہ جس نے اسلام کو ترک کیا آپ نے اس سے مقابلہ کیا۔اور جس نے حق سے انکار کیا آپ نے اس سے جنگ کی۔اور جو اسلام کے گھر میں داخل ہو گیا تو اس سے نرمی اور شفقت کا سلوک کیا۔آپ نے اشاعت اسلام کے لیے سختیاں برداشت کیں۔آپ نے مخلوق کو نایاب موتی عطا کئے۔اور اپنے عزم مبارک سے بادیہ نشینوں کو معاشرت سکھائی۔اور ان شتر بے مہاروں کو کھانے پینے ، نشست و برخاست کے آداب اور نیکی کے راستوں کی تلاش اور جنگوں میں بہادری اور جوش کے ادب سکھائے اور آپ نے ہر طرف مایوسی دیکھ کر بھی کسی سے جنگ کے بارے میں نہیں پوچھا بلکہ آپ ہر مد مقابل سے نبرد آزما ہونے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ہر بزدل اور بیمار شخص کی طرح آپ کو خیالات نے بہکایا نہیں۔ہر فساد اور مصیبت کے موقع پر ثابت ہو گیا کہ آپ کوہ رضوی ( یہ مدینہ کا ایک پہاڑ ہے) سے زیادہ راسخ اور مضبوط ہیں۔آپ نے ہر اس شخص کو جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہلاک کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی خاطر تمام تعلقات کو ، پھینک دیا۔آپ کی تمام خوشی اعلائے کلمہ اسلام اور خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تھی۔پس اپنے دین کی حفاظت کرنے والے حضرت ابو بکر کا دامن تھام لے اور فضول گوئی چھوڑ دے۔فرمایا کہ اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے شخص کی طرح یا آباؤ اجداد کے خیالات کی تقلید کرنے والے کی طرح نہیں کہا بلکہ جب سے میرے قدم نے چلنا اور میرے قلم نے لکھنا شروع کیا مجھے یہی محبوب رہا کہ میں تحقیق کو اپنا مسلک اور غور وفکر کو اپنا مقصود بناؤں۔میں نے پوری تحقیق کی ہے۔فرمایا کہ چنانچہ میں ہر خبر کی چھان بین کرتا اور ہر ماہر علم سے پوچھتا۔پس میں نے صدیق اکبر کو واقعی صدیق پایا اور تحقیق کی رو سے یہ امر مجھ پر منکشف ہوا جب میں نے آپ کو تمام