اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 451

اصحاب بدر جلد 2 451 حضرت ابو بکر صدیق پھر آپ فرماتے ہیں: ” صدیق کی تخلیق مبدء فیضان کی طرف متوجہ ہونے اور رسولِ رحمن صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کرنے کی صورت میں ہوئی۔آپ صفات نبوت کے ظہور کے تمام انسانوں سے زیادہ حق دار تھے اور حضرت خیر البریہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بننے کے لئے اولی تھے اور اپنے متبوع کے ساتھ کمال اتحاد اور موافقت تامہ استوار کرنے کے اہل تھے۔نیز یہ کہ وہ جملہ اخلاق،صفات و عادات اپنانے اور انفسی اور آفاقی تعلقات چھوڑنے میں آپ کے (ایسے کامل) مظہر تھے کہ تلواروں اور نیزوں کے زور سے بھی ان کے درمیان قطع تعلق واقع نہ ہو سکے۔اور آپ اس حالت پر ہمیشہ قائم رہے اور مصائب اور ڈرانے والے حالات، نیز لعنت ملامت میں سے کچھ بھی آپ کو بے قرار نہ کر سکے۔آپ کی روح کے جوہر میں صدق و صفا، ثابت قدمی اور تقویٰ شعاری داخل تھی۔خواہ سارا جہاں مرتد ہو جائے آپ ان کی پرواہ نہ کرتے اور نہ پیچھے ہٹتے بلکہ ہر آن اپنا قدم آگے ہی بڑھاتے گئے۔اور اسی وجہ سے اللہ نے نبیوں کے فوراً بعد صدیقوں کے ذکر کو رکھا اور فرمایا: فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِين (النساء:70) اور اس (آیت) میں صدیق (اکبر) اور آپ کی دوسروں پر فضیلت کے اشارے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے آپ کے سوا کسی صحابی کا نام صدیق نہیں رکھا تا کہ وہ آپ کے مقام اور عظمت شان کو ظاہر کرے۔لہذا غور و فکر کرنے والوں کی طرح غور کر۔اس آیت میں سالکوں کے لئے کمال کے مراتب اور ان کی اہلیت رکھنے والوں کی جانب بہت بڑا اشارہ ہے۔اور جب ہم نے اس آیت پر غور کیا اور سوچ کو انتہا تک پہنچایا تو یہ منکشف ہوا کہ پہ آیت ( ابو بکر صدیق کے کمالات پر سب سے بڑی گواہ ہے اور اس میں ایک گہرا راز ہے جو ہر اس شخص پر منکشف ہوتا ہے جو تحقیق پر مائل ہوتا ہے۔پس ابو بکر وہ ہیں جنہیں رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبان (مبارک) سے صدیق کا لقب عطا کیا گیا اور فرقانِ (حمید) نے صدیقوں کو انبیاء کے ساتھ ملایا ہے جیسا کہ اہل عقل پر پوشیدہ نہیں۔اور ہم صحابہ میں سے کسی ایک صحابی پر بھی اس لقب اور خطاب کا اطلاق نہیں پاتے۔اس طرح صدیق امین کی فضیلت ثابت ہو گئی کیونکہ نبیوں کے بعد آپ کے نام کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”ابن خلدون کہتے ہیں کہ ”جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی اور آپ پر غشی طاری ہو گئی تو آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت، عباس اور علی آنحضرت کے پاس جمع ہو گئے۔پھر نماز کا وقت ہوا تو آپ نے فرمایا: ابو بکر سے کہہ دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔الجزء الثانی صفحہ (۶۲) آپ فرماتے ہیں کہ ”ابن خلدون کہتے ہیں کہ ”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کرنے کے بعد فرمایا: ابو بکر کے دروازے کے سوا مسجد میں کھلنے والے سب دروازے بند کر دو! 1045<< کیونکہ میں تمام صحابہ میں احسان میں کسی کو بھی ابو بکر سے زیادہ افضل نہیں جانتا۔(الجزء الثانی صفحہ ۱۶۲) پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”ابن خلدون نے ذکر کیا ہے کہ ”حضرت ابو بکر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کے چہرے سے چادر ہٹائی اور آپ کو بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ نے جو موت آپ کے لیے مقدر کی تھی اس کا مزہ آپ نے چکھ لیا۔لیکن اب