اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 450

اصحاب بدر جلد 2 450 حضرت ابو بکر صدیق سے فیض یاب ہو رہا ہے۔آپ نے ہمارے دین کے لئے فرقان اور ہماری دنیا کے لئے امن و امان عطا فرمایا۔اور جس نے اس سے انکار کیا تو اُس نے جھوٹ بولا اور ہلاکت اور شیطان سے جاملا۔“ فرماتے ہیں اور جن لوگوں پر آپ کا مقام و مرتبہ مشتبہ رہا، ایسے لوگ عمد أخطا کار ہیں اور انہوں نے کثیر پانی کو اور قلیل جانا۔پس وہ غصے سے اٹھے اور ایسے شخص کی تحقیر کی جو اول درجہ کا مکرم و محترم تھا۔“ فرمایا ” اور حضرت صدیق کی ذاتِ گرامی رجاء و خوف خشیت و شوق اور انس و محبت کی جامع تھی اور آپ کا جوہر فطرت صدق و صفا میں اتم و اکمل تھا اور حضرت کبریاء کی طرف بکمال منقطع تھا۔ور نفس اور اس کی لذات سے خالی اور ہو اوہوس اور اس کے جذبات سے کلیۂ دور تھا اور آپ حد درجہ کے متبتل تھے اور آپ سے اصلاح ہی صادر ہوئی اور آپ سے مومنوں کے لئے فلاح و بہبود ہی ظاہر ہوئی۔آپ ایذا اور دکھ دینے کی تہمت سے پاک تھے۔اس لئے تو داخلی تنازعات کی طرف نہ دیکھ بلکہ انہیں بھلائی کی طرز پر محمول کر۔کیا تو غور نہیں کرتا کہ وہ شخص جس نے اپنے رب کے احکامات اور خوشنودی سے اپنی توجہ اپنے بیٹے بیٹیوں کی طرف نہیں پھیری تاکہ وہ انہیں مالدار بنائیں یا انہیں اپنے عمال میں سے بنائیں اور جس نے دنیا سے صرف اسی قدر حصہ لیا جتنا اس کی ضرورتوں کے لئے کافی تھا تو پھر تو کیسے خیال کر سکتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر ظلم روارکھا ہو گا۔1043 آپ بلاشبہ اسلام اور مرسلین کے فخر ہیں پھر آپ فرماتے ہیں: ”اللہ صدیق (اکبر) پر رحمتیں نازل فرمائے کہ آپ نے اسلام کو زندہ کیا اور زندیقوں کو قتل کیا اور قیامت تک کے لئے اپنی نیکیوں کا فیضان جاری کر دیا۔آپ بہت گریہ کرنے والے اور متبتل الی اللہ تھے اور تضرع، دعا، اللہ کے حضور گرے رہنا، اس کے در پر گریہ وعاجزی سے جھکے رہنا اور اس کے آستانے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا آپ کی عادت میں سے تھا۔آپ بحالت سجدہ دعا میں پورا زور لگاتے اور تلاوت کے وقت روتے تھے۔آپ بلاشبہ اسلام اور مرسلین کے فخر ہیں۔آپ کا جو ہر فطرت خیر البریہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ہر فطرت کے قریب تر تھا۔آپ نبوت کی خوشبوؤں کو قبول کرنے کے لئے مستعد لو گوں میں سے اول تھے۔حاشر (صلی اللہ علیہ وسلم) سے قیامت کی مانند جو حشر روحانی ظاہر ہوا آپ اس کے دیکھنے والوں میں سر فہرست تھے۔اور ان لوگوں میں سے پہلے تھے جنہوں نے میل سے آئی چادروں کو پاک و صاف پوشاکوں سے تبدیل کر دیا اور انبیاء کے اکثر خصائل میں انبیاء کے مشابہ تھے۔ہم قرآن کریم میں آپ کے ذکر کے سوا کسی اور (صحابی) کا ذکر بجز ظن و گمان کرنے والوں کے ظن کے قطعی اور یقینی طور پر موجود نہیں پاتے۔اور ظن وہ چیز ہے جو حق کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اور نہ ہی وہ (حق کے متلاشیوں کو سیراب کر سکتا ہے۔اور جس نے آپ سے دشمنی کی تو ایسے شخص اور حق کے درمیان ایک ایسا بند دروازہ حائل ہے جو کبھی کبھی صدیقوں کے سردار کی طرف رجوع کئے بغیر نہ کھلے گا۔1044