اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 449
حاب بدر جلد 2 449 حضرت ابو بکر صدیق رکھا۔کثرت فیوض اور نبی الثقلین کے دین کی تائید میں شیخین (یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) جیسا میں نے کسی کو نہ پایا۔یہ دونوں ہی آفتاب ائم و ملل (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع میں ماہتاب سے بھی زیادہ سریع الحرکت تھے اور آپ کی محبت میں فنا تھے۔انہوں نے حق کے حصول کی خاطر ہر تکلیف کو شیریں جانا اور اس نبی کی خاطر جس کا کوئی ثانی نہیں، ہر ذلت کو برضاور غبت گوارا کیا۔اور کافروں اور منکروں کے لشکروں اور قافلوں سے مٹھ بھیڑ کے وقت شیروں کی طرح سامنے آئے۔یہاں تک کہ اسلام غالب آگیا۔اور دشمن کی جمعیتوں نے ہزیمت اٹھائی۔شرک چھٹ گیا اور اس کا قلع قمع ہو گیا اور ملت و مذہب کا سورج جگمگ جگمگ کرنے لگا اور مقبول دینی خدمات بجالاتے ہوئے اور مسلمانوں کی گردنوں کو لطف و احسان سے زیر بار کرتے ہوئے ان دونوں کا انجام خیر المرسلین کی ہمسائیگی پر منتج ہوا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: اللہ اکبر ! ان دونوں (ابو بکر و عمر) کے صدق و خلوص کی کیا بلند شان ہے۔وہ دونوں ایسے (مبارک) مدفن میں دفن ہوئے کہ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو بصد رشک وہاں دفن ہونے کی تمنا کرتے لیکن یہ مقام محض تمنا سے تو حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ صرف خواہش سے عطا کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ تو بار گاہ رب العزت کی طرف سے ایک ازلی رحمت ہے۔“ 1042 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "بلا شبہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اس کارواں کے امیر تھے جس نے اللہ کی خاطر بلند چوٹیاں سر کیں اور انہوں نے متمدن اور بادیہ نشینوں کو حق کی دعوت دی یہاں تک کہ ان کی یہ دعوت دُور دراز ممالک تک پھیل گئی۔اور ان دونوں کی خلافت میں بکثرت ثمرات اسلام ودیعت کئے گئے اور کئی طرح کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے ساتھ کامل خوشبو سے معطر کی گئی۔اور اسلام حضرت صدیق اکبر کے زمانہ میں مختلف اقسام کے (فتنوں کی) آگ سے الم رسیدہ تھا اور قریب تھا کہ کھلی کھلی غارت گریاں اس کی جماعت پر حملہ آور ہوں اور اس کے کوٹ لینے پر فتح کے نعرے لگائیں۔پس عین اس وقت حضرت ابو بکر صدیق کے صدق کی وجہ سے رب جلیل اسلام کی مدد کو آپہنچا اور گہرے کنویں سے اس کا متاع عزیز نکالا۔چنانچہ اسلام بد حالی کے انتہائی مقام سے بہتر حالت کی طرف لوٹ آیا۔پس انصاف ہم پر یہ لازم ٹھہراتا ہے کہ ہم اس مددگار کا شکریہ ادا کریں اور دشمنوں کی پرواہ نہ کریں۔پس تو اس شخص سے بے رخی نہ کر جس نے تیرے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور تیرے دین ودر کی حفاظت کی اور اللہ کی خاطر تیری بہتری چاہی اور تجھ سے بدلہ نہ چاہا۔تو پھر بڑے تعجب کا مقام ہے کہ حضرت صدیق اکبر کی بزرگی سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے؟ اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کے اوصاف حمیدہ آفتاب کی طرح درخشندہ ہیں اور بلاشبہ ہر مومن آپ کے لگائے ہوئے درخت کے پھل کھاتا اور آپ کے پڑھائے ہوئے علوم