اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 443
حاب بدر جلد 2 443 حضرت ابو بکر صدیق بشیر اللہ کو جانتے بھی نہیں اور نہ بشیر اللہ کی ان کے دلوں میں کوئی قدر ہے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھنے کے بغیر برکت نہیں ملتی تو اس کا یہ مطلب تھا کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہیں ملتا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف اسی کو ملتا ہے جو ہر اہم کام سے پہلے بسمہ اللہ پڑھ لیتا ہے۔اب ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی چیز زیادہ برکت والی ہوتی ہے یا بندوں سے ملنے والی چیز زیادہ برکت والی ہوتی ہے۔انسانی تدابیر سے حاصل کی ہوئی بادشاہت بند بھی ہو سکتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بادشاہت بند نہیں ہو سکتی۔“ کاش کہ یہ نکتہ مسلمانوں کو بھی آج سمجھ آ جائے۔گو بسم اللہ پڑھتے بھی ہیں لیکن وہ بھی لگتا ہے صرف ظاہری منہ سے ادا ئیگی ہو رہی ہے اور دل سے نہیں۔ہمارے مسلمان لیڈروں کے لیے، بادشاہوں کے لیے سبق پھر لکھتے ہیں کہ یزید بھی ایک بادشاہ تھا اُسے کتنا غرور تھا۔اُسے طاقت کا کتناد عویٰ تھا۔اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو تباہ کیا۔بظاہر اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا تھا۔”اس نے آپ کی اولاد کو قتل کیا اور اس کی گردن نیچے نہیں ہوتی تھی۔بڑا اکٹڑ کے رہتا تھا وہ سمجھتا تھا کہ میرے سامنے کوئی نہیں بول سکتا۔حضرت ابو بکر بھی بادشاہ ہوئے لیکن ان میں عجز تھا، انکسار تھا۔آپ فرماتے تھے مجھے خدا تعالیٰ نے لوگوں کی خدمت کے لیے مقرر کیا ہے۔اور خدمت کے لیے جتنی مہلت مجھے مل جائے اس کا احسان ہے۔لیکن یزید کہتا تھا مجھے میرے باپ سے بادشاہت ملی ہے۔میں جس کو چاہوں مار دوں اور جس کو چاہوں زندہ رکھوں۔بظاہر یزید اپنی بادشاہت میں حضرت ابو بکر سے بڑھا ہو اتھا۔وہ کہتا تھا میں خاندانی بادشاہ ہوں۔کس کی طاقت ہے کہ میرے سامنے بولے۔لیکن حضرت ابو بکرؓ فرماتے تھے کہ میں اس قابل کہاں تھا کہ بادشاہ بن جاتا۔مجھے جو کچھ دیا ہے خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔میں اپنے زور سے بادشاہ نہیں بن سکتا تھا۔میں ہر ایک کا خادم ہوں۔میں غریب کا بھی خادم ہوں اور امیر کا بھی خادم ہوں۔اگر مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو تو مجھ سے اس کا ابھی بدلہ لے لو۔قیامت کے دن مجھے خراب نہ کرنا۔حضرت ابو بکر کے بارے میں ایک سننے والا کہتا ہو گا کہ یہ کیا ہے۔اسے تو ایک نمبر دار کی سی حیثیت بھی حاصل نہیں۔لیکن وہ یزید کی بات سنتا ہو گا تو کہتا ہو گا یہ باتیں ہیں جو قیصر و کسریٰ والی ہیں۔“ یہ بادشاہوں والی باتیں ہیں جو یزید کر رہا ہے۔لیکن جب حضرت ابو بکر فوت ہو گئے تو ان کے بیٹے ، اُن کے پوتے اور پڑ پوتے پھر پڑ پوتوں کے بیٹے اور پھر آگے وہ نسل جس میں پوتا اور پڑپوتا کا سوال ہی باقی نہیں رہتا وہ برابر ابو بکر سے اپنے رشتہ پر فخر کرتے تھے۔پھر اُن کو بھی جانے دو۔وہ لوگ جو ابو بکر کی طرف منسوب بھی نہیں، جو آپ کے خاندان کو بھی کبھی نہیں ملے وہ بھی آپ کے واقعات پڑھتے ہیں تو آج تک ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ان کی محبت جوش میں آجاتی ہے۔کوئی شخص آپ کو برا کہہ دے تو ان کا خون کھولنے لگتا ہے۔غرض اولاد تو الگ رہی غیر بھی اپنی جان ان پر نثار کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ہر کلمہ گو جب آپ کا نام سنتا ہے تو کہتا ہے رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ