اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 431

اصحاب بدر جلد 2 431 حضرت ابو بکر صدیق خدا کی قسم ! اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یہ لوگ رسی کا ایک ٹکڑا بھی بطور زکوۃ دیتے تھے تو میں وہ بھی ان سے ضرور وصول کروں گا۔پھر آپ نے فرمایا: عمر اگر تم لوگ ڈرتے ہو تو بے شک چلے جاؤ۔میں اکیلا ہی ان لوگوں سے لڑوں گا اور اس وقت تک نہیں رکوں گا جب تک یہ اپنی شرارت سے باز نہیں آجاتے۔چنانچہ لڑائی ہوئی اور آپ فاتح ہوئے یعنی حضرت ابو بکر فاتح ہوئے اور اپنی وفات سے پہلے پہلے آپ نے دوبارہ سارے عرب کو اپنے ماتحت کر لیا۔حضرت ابو بکڑ نے اپنی زندگی میں جو کام کیا وہ انہی کا حصہ تھا۔کوئی اور شخص وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔1001 حضرت ابو بکر کے سوا اور کسی میں یہ جرآت نہیں تھی کہ اس کے ہاتھ کو روک سکے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مکہ کے رؤساء کو لوگوں میں سے اس قسم کی عزت اور عظمت حاصل تھی کہ لوگ ان کے سامنے بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے اور ان کے احسانات بھی لوگوں پر اس کثرت کے ساتھ تھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے آنکھ تک نہیں اٹھا سکتا تھا۔ان کی اس عظمت کا پتہ اس وقت لگ سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جس سردار کو مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرنے کے لیے بھیجا اس نے باتوں باتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا دیا۔یہ دیکھ کر ایک صحابی نے زور سے اپنا تلوار کا کندہ، جو دستہ ہوتا ہے تلوار کا اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو مت لگاؤ۔اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تا کہ معلوم کرے کہ یہ کون شخص ہے جس نے میرے ہاتھ پر تلوار کا دستہ مارا ہے۔صحابہ چونکہ خود پہنے ہوئے تھے اس لیے ان کو صرف آنکھیں اور ان کے حلقے ہی دکھائی دیتے تھے۔وہ تھوڑی دیر غور سے دیکھتا رہا۔پھر کہنے لگا کیا تم فلاں شخص ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔اس نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے فلاں فلاں موقع پر تمہارے خاندان کو فلاں مصیبت سے نجات دی اور فلاں موقع پر تم پر فلاں احسان کیا۔کیا تم میرے سامنے بولتے ہو ؟ حضرت مصلح موعود اس احسان کا ، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آج کل ہم دیکھیں تو احسان فراموشی کا مادہ لوگوں میں اس قدر عام ہو چکا ہے کسی پر شام کو احسان کرو تو صبح کو وہ بھول جاتا ہے اور کہتا ہے کیا میں اب ساری عمر اس کا غلام بنار ہوں ؟ ہرے پر احسان کر دیا تو کیا ہو گیا وہ ساری عمر کی غلامی چھوڑ ایک رات کے احسان کی قدر تک بر داشت نہیں کر سکتا مگر عربوں میں احسان مندی کا جذبہ بدرجہ کمال پایا جاتا تھا۔اب یہ ایک نہایت ہی نازک موقع تھا مگر جب اس نے اپنے احسانات گنوائے تو اس صحابی کی نظریں زمین میں گڑ گئیں اور شر مندہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔احسان کی اتنی قدر ہوتی تھی۔اس پر پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنی شروع کر دیں اور کہا میں عرب کا باپ ہوں۔میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ تم اپنی قوم کی عزت رکھ لو اور دیکھو یہ جو تمہارے ارد گرد جمع ہیں یہ تو مصیبت آنے پر فوراً بھاگ جائیں گے اور تمہارے کام آخر تمہاری قوم ہی آئے گی۔پس کیوں اپنی قوم کو ذلیل کرتے ہو میں عرب کا باپ ہوں۔