اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 432
اصحاب بدر جلد 2 432 حضرت ابو بکر صدیق وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار یہی کہتا تھا کہ میں عرب کا باپ ہوں۔تم میری بات مان لو اور جس طرح میں کہتا ہوں اسی طرح عمرہ کیے بغیر واپس چلے جاؤ۔اسی دوران میں اس نے اپنی بات پر زور دینے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منوانے کی خاطر آپ کی ریش مبارک کو پھر ہاتھ لگا دیا اور گو آپ کو ، آپ کی ریش مبارک کو اس کا ہاتھ لگانا لجاجت کے رنگ میں تھا، بڑی منت کے رنگ میں کہنا چاہتا تھا اور اس لیے تھا کہ آپ سے وہ اپنی بات منوائے مگر چونکہ اس میں تحقیر کا پہلو بھی پایا جاتا تھا اس لیے صحابہ اسے برداشت نہ کر سکے اور جو نہی اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگایا پھر کسی نص نے زور سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کی طرف مت بڑھا۔اس نے پھر آنکھیں اٹھائیں اور غور سے دیکھتا رہا کہ یہ کون ہے جس نے مجھے روکا ہے اور آخر پہچان کر اس نے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں۔اس شخص نے جو کافروں کا نمائندہ بن کے آیا تھا جب اس نے پہچانا اس شخص کو تو آنکھیں نیچی کر لیں۔دیکھا یہ تو ابو بکر ہیں تو کہنے لگا ابو بکر میں جانتا ہوں کہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں تم ایسے شخص ہو جس پر میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔پس وہ دوسروں پر اس قدر احسانات کرنے والی قوم تھی کہ سوائے حضرت ابو بکر کے جس قدر انصار اور مہاجر وہاں تھے ان سب پر اس ایک رئیس کا کوئی نہ کوئی احسان تھا اور حضرت ابو بکڑ کے سوا اور کسی میں یہ جرات نہیں تھی کہ اس کے ہاتھ کو روک سکے۔1002 و ہی واحد شخص تھے جن پر اس شخص کا کوئی احسان نہیں تھا۔خدا کا بنایا ہوا خلیفہ کس قدر جرآت اور دلیری رکھتا ہے پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ زکوۃ تو ایسی ضروری چیز ہے کہ جو نہیں دیتا وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب کچھ لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهَرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ( 103) اس میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ تو لے۔اب جب کہ آپ نہیں رہے تو اور کون لے سکتا ہے ؟ نادانوں نے یہ نہ سمجھا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہو گا جو لے گا لیکن جہالت سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔ادھر تو لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور ادھر فساد ہو گیا قریباً سارا عرب مرتد ہو گیا اور کئی مدعی نبوت کھڑے ہو گئے۔یوں معلوم ہو تا تھا کہ نعوذ باللہ اسلام تباہ ہونے لگا ہے۔ایسے نازک وقت میں صحابہ نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ ان لوگوں سے جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے فی الحال نرمی سے کام لیں۔حضرت عمر جن کو بہت بہادر کہا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ گو میں کتنا ہی جری ہوں مگر ابو بکر جتنا نہیں کیونکہ میں نے بھی اس وقت یہی کہا کہ ان سے نرمی کی جائے۔پہلے کافروں کو زیر کر لیں پھر ان کی اصلاح کر لیں گے لیکن ابو بکر نے کہا ابن مقحافہ کی کیا حیثیت ہے؟ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے