اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 29
اصحاب بدر جلد 2 29 حضرت ابو بکر صدیق پس وہ جس نے (راہ حق میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بہترین نیکی کی تصدیق کی تو ہم اسے ضرور کشادگی عطا کریں گے۔اور جہاں تک اُس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بہترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اُسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے اور اس کا مال جب تباہ ہو جائے گا تو اس کے کسی کام نہ آئے گا۔یقیناً ہدایت دینا ہم پر بہر حال فرض ہے اور انجام بھی لازماً ہمارے تصرف میں ہے اور آغاز بھی۔پس میں تمہیں اس آگ سے ڈراتا ہوں جو شعلہ زن ہے اس میں کوئی داخل نہیں ہو گا مگر سخت بد بخت۔وہ جس نے جھٹلایا اور پیٹھ پھیر لی جبکہ سب سے بڑھ کر منتقی اس سے ضرور بچایا جائے گا جو اپنامال لی دیتا ہے پاکیزگی چاہتے ہوئے اور اس پر کسی کا احسان نہیں ہے کہ جس کا اس کی طرف سے بدلہ دیا جارہا ہو۔یہ محض اپنے رب اعلیٰ کی خوشنودی چاہتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور وہ ضرور راضی ہو جائے گا۔87 حضرت ابو بکر نے جو غلام آزاد کیے تھے ان میں سے ایک حضرت خباب بن ارثے بھی تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت خباب بن ارث کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”ایک اور صحابی جو پہلے غلام تھے انہوں نے ایک دفعہ نہانے کے لئے کرتہ اتارا تو کوئی شخص پاس کھڑا تھا۔اس نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ کا چمڑا اوپر سے ایسا سخت اور کھردرا ہے جیسے بھینس کی کھال ہوتی ہے۔وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور انہیں کہنے لگا۔تمہیں یہ کب سے بیماری ہے تمہاری تو پیٹھ کا چمڑا ایسا سخت ہے جیسے جانور کی کھال ہوتی ہے۔یہ سن کر وہ ہنس پڑے۔“ حضرت خباب ہنس پڑے اور کہنے لگے بیماری کوئی نہیں۔جب ہم اسلام لائے تھے تو ہمارے مالک نے فیصلہ کیا کہ ہمیں سزا دے۔چنانچہ تپتی دھوپ میں لٹا کر ہمیں مارنا شروع کر دیتا اور کہتا کہ کہو ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں مانتے۔ہم اس کے جواب میں کلمہ شہادت پڑھ دیتے۔اس پر وہ پھر مارنے لگ جاتا اور جب اس طرح بھی اس کا غصہ نہ تھمتا تو ہمیں پتھروں پر گھسیٹا جاتا لکھتے ہیں کہ : ” عرب میں کچے مکانوں کو پانی سے بچانے کے لئے مکان کے پاس ایک قسم کا پتھر ڈال دیتے ہیں جسے پنجابی میں بھنگر کہتے ہیں۔یہ نہایت سخت گھر درا اور نوک دار پتھر ہوتا ہے اور لوگ اسے دیواروں کے ساتھ اس لئے لگا دیتے ہیں کہ پانی کے بہاؤ سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے ، یعنی دیواروں کو نقصان نہ پہنچے تو وہ صحابی کہنے لگے کہ جب ہم اسلام سے انکار نہ کرتے اور لوگ ہمیں مار مار کر تھک جاتے تو پھر ہماری ٹانگوں میں رسی باندھ کر ان کھردرے پتھروں پر ہمیں گھسیٹا جاتا تھا اور جو کچھ تم دیکھتے ہو اسی مار پیٹ اور گھسٹنے کا نتیجہ ہے۔غرض سالہا سال تک ان پر ظلم ہوا۔آخر حضرت ابو بکر سے یہ بات برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے اپنی جائیداد کا بہت سا حصہ فروخت کر کے انہیں آزاد کر دیا۔884 8866 پھر حضرت ابو بکر کے غلاموں کو آزاد کرانے کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ یہ غلام جو رسول کریم صلی علیہ ظلم پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلال، رومی بھی تھے جیسے مہیب پھر ان میں عیسائی بھی تھے جیسے بخیر اور مہیب اور مشرکین بھی تھے جیسے بلال اور عمار بلال کو اس کے مالک تپتی ریت پر لٹا کر اوپر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نوجوانوں کو