اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 407
حاب بدر جلد 2 407 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قریش میں بہت مکرم و معزز تھے اور اسلام میں تو اُن کو وہ رتبہ حاصل ہوا جو کسی اور صحابی کو حاصل نہیں تھا۔حضرت ابو بکر نے ایک لمحہ کے لیے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ میں شک نہیں کیا بلکہ سنتے ہی قبول کیا اور پھر انہوں نے اپنی ساری توجہ اور اپنی جان اور مال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی خدمت میں وقف کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں ابو بکر کو زیادہ عزیز رکھتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد وہ آپ کے پہلے خلیفہ ہوئے۔اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی انہوں نے بے نظیر قابلیت کا ثبوت دیا۔حضرت ابو بکر کے متعلق یورپ کا مشہور مستشرق سپر نگر لکھتا ہے کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آغاز اسلام میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خواہ دھوکا کھانے والے ہوں مگر دھوکا دینے والے ہر گز نہیں تھے بلکہ صدق دل سے اپنے آپ کو خدا کا رسول یقین کرتے تھے۔اور سرولیم میور کو بھی سپر نگر کی اس رائے سے کلی اتفاق ہے۔حضرت خدیجہ ، حضرت ابو بکر، حضرت علی اور زید بن حارثہ کے بعد اسلام لانے والوں میں پانچ اشخاص تھے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے ایمان لائے اور یہ سب کے سب اسلام میں ایسے جلیل القدر اور عالی مرتبہ اصحاب نکلے کہ چوٹی کے صحابہ میں شمار کیے جاتے تھے۔ان کے نام یہ ہیں۔اوّل حضرت عثمان بن عفان۔دوسرے عبد الرحمن بن عوف۔تیسرے سعد بن ابی وقاص۔چوتھے زبیر بن عوام۔پانچویں طلحہ بن عبید اللہ۔یہ پانچوں اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں یعنی ان دس اصحاب میں داخل ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے خاص طور پر جنت کی بشارت دی تھی اور جو آپ کے نہایت مقرب صحابی اور مشیر شمار ہوتے تھے۔956 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک موقع پر جماعت کو مالی تحریک کر رہے تھے تو اس میں آپ نے اس کو اس واقعہ کے ساتھ بھی جوڑا۔آپ لکھتے ہیں کہ ”مومن ایسی تحریکوں پر گھبراتا نہیں“ یعنی مالی تحریکوں پر یا قربانی کی تحریکوں پر ”بلکہ خوش ہوتا ہے اور اس کو فخر ہوتا ہے کہ تحریک سب سے پہلے مجھ تک پہنچی۔وہ ڈرتا نہیں بلکہ اس پر اس کو ناز ہوتا ہے اور خد اتعالیٰ کا وہ شکر یہ ادا کرتا ہے اور سب سے زیادہ اس کی راہ میں قربانی کرتا ہے اور درجہ بھی سب سے بڑھ کر پاتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو جو قربانیاں حضرت ابو بکر نے کیں یا جس جس خدمت کا ان کو موقع حاصل ہوا ہے وہ آرزو کرتے تھے کہ مجھے سب سے پہلے ان قربانیوں کا کیوں موقع ملا۔کبھی سوچا ہو گا، خواہش کی ہوگی کہ کیوں مجھے موقع ملا۔”انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالا اور خدا کی راہ میں تکلیفیں اٹھائیں۔اس لئے انہوں نے وہ درجہ پایا جو حضرت عمر بھی نہ پاسکے۔کیونکہ جو پہلے ایمان لاتا ہے اس کو سب سے پہلے قربانیوں کا موقع ملتا ہے حالانکہ خطرات حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کے وقت بھی تھے۔تکلیفیں دی جاتی تھیں۔نمازیں نہیں پڑھنے دیتے تھے۔صحابہ وطنوں سے بے وطن ہو رہے تھے۔پہلی ہجرت حبشہ جاری تھی۔ترقیوں کا زمانہ ان کے ایمان لانے کے بہت بعد شروع ہو ا مگر پھر بھی جو مر تبہ حضرت ابو بکر