اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 396
حاب بدر جلد 2 396 حضرت ابو بکر صدیق آپ ان دونوں کو دیکھ کر مسکراتے۔29 929 930 حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکڑ سے فرمایا تم حوض پر میرے ساتھی ہو اور غار میں میرے ساتھی ہو۔حضرت جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ سے کسی چیز کے بارے میں بات کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی ارشاد فرمایا۔اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں آپ کو نہ پاؤں یعنی آپ کے بعد ، وفات کے بعد اگر مجھے ضرورت ہو تو آپ نے فرمایا اگر مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آنا۔131 931 وہ تمہاری ضرورت پوری کر دے گا۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز باہر تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ان دونوں میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھا اور دوسرا آپ کے بائیں جانب اور آپ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور فرمایا۔اس طرح ہم قیامت کے روز اٹھائے جائیں گے۔رض 932 حضرت عبد اللہ بن حنطب سے مروی ہے کہ: 933 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو دیکھا اور فرمایا یہ دونوں کان اور آنکھیں ہیں یعنی میرے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں۔حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے آسمان والوں میں سے دو وزیر ہوتے ہیں اور زمین والوں میں سے بھی دو وزیر ہوتے ہیں۔آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر جبرئیل اور میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر ہیں۔934 پھر آپ کو جنت کی بشارت بھی دی۔سعید بن مسیب نے کہا حضرت ابو موسیٰ اشعری نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا۔پھر باہر نکلے اور کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا رہوں گا اور آج سارا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہوں گا۔یعنی وہ دن انہوں نے آپ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پوچھا۔لوگوں نے کہا کہ باہر نکلے ہیں اور اس طرف گئے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پوچھتا بچھا تارہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بئر آریس (مسجد قبا کے قریب ایک کنواں تھا) میں داخل ہو گئے۔میں دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں کا تھا۔جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا تو کیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بئر آریس پر بیٹھے ہیں اور اس کی منڈیر کے وسط میں تھے اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھائے ہوئے