اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 388

محاب بدر جلد 2 388 حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ تو گیا مگر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی اور میں تو بہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کو دھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجالایا یعنی صدقے کئے، روزے رکھے ، نفلی نمازیں پڑھیں اور غلام آزاد کئے تاکہ میری اس کمزوری کا داغ 907< دھل جائے۔“ اس واقعہ کا تذکرہ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تم کو بہت حکم دیئے مگر میں نے تم سے مخلص ترین لوگوں کے اندر بھی بعض دفعہ احتجاج کی روح دیکھی مگر ابو بکڑ کے اندر میں نے یہ روح کبھی نہیں دیکھی۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا انسان بھی گھبر ا گیا اور وہ اسی گھبراہٹ کی حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں گئے اور کہا کہ کیا ہمارے ساتھ خدا کا یہ وعدہ نہیں تھا کہ ہم عمرہ کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں خدا کا وعدہ تھا۔انہوں نے کہا کہ کیا خدا کا ہمارے ساتھ یہ وعدہ نہیں تھا کہ وہ ہماری تائید اور نصرت کرے گا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہاں تھا۔انہوں نے کہا تو پھر کیا ہم نے عمرہ کیا؟ حضرت ابو بکڑ نے کہا عمرا خدا نے کب کہا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے ؟ پھر انہوں نے کہا کہ کیا ہم کو فتح و نصرت حاصل ہوئی؟ حضرت ابو بکر نے کہا کہ خدا اور اس کا رسول فتح و نصرت کے معنے ہم سے بہتر جانتے ہیں مگر عمر کی اس جواب سے تسلی نہ ہوئی اور وہ اسی گھبراہٹ کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا خدا کا ہم سے یہ وعدہ نہ تھا کہ ہم مکہ میں طواف کرتے ہوئے داخل ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔انہوں نے عرض کیا کہ کیا ہم خدا کی جماعت نہیں اور کیا خدا کا ہمارے ساتھ فتح و نصرت کا وعدہ نہیں تھا؟ آپ نے فرمایا ہاں تھا۔حضرت عمرؓ نے کہا تو یا رسول اللہ ! کیا ہم نے عمرہ کیا۔آپ نے فرمایا کہ خدا نے کب کہا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ کریں گے۔یہ تو میر اخیال تھا کہ اس سال عمرہ ہو گا۔خدا نے تو کوئی تعیین نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا تو پھر فتح و نصرت کے وعدہ کے کیا معنی ہوئے ؟ آپ نے فرمایا نصرت خدا کی ضرور آئے گی اور جو وعدہ اس نے کیا ہے وہ بہر حال پورا ہو گا۔گویا جو جواب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا تھا وہی جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا۔دونوں روایتوں میں صرف فرق یہ ہے کہ ایک یہ بھی روایت ہے کہ حضرت عمر پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور حضرت مصلح موعود نے جو بیان فرمایا ہے بات وہی ہے لیکن یہ ہے کہ پہلے حضرت ابو بکر کے پاس گئے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ایک آدمی 908❝