اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 368
اصحاب بدر جلد 2 368 حضرت ابو بکر صدیق صدیقی میں بھی ان کے سپر د یہ خدمت تھی۔3 853 ایک روایت کے مطابق حضرت ابو بکرؓ کے دور خلافت میں حضرت زید بن ثابت نے محکمہ کتابت سنبھالا تھا اور بسا اوقات آپ کے پاس موجود دیگر صحابہ جیسے حضرت علی یا حضرت عثمان اس ذمہ داری کو نبھاتے تھے۔854 پھر فوج کا محکمہ ہے۔اس بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر کے دور میں کوئی باقاعدہ فوجی نظام نہ تھا۔جہاد کے وقت ہر مسلمان مجاہد ہو تا تھا۔فوج کی تقسیم قبائل کے مطابق ہوتی تھی۔ہر قبیلے کا امیر الگ الگ ہو تا تھا اور ان سب پر امیر الامراء کا عہدہ ہو تا تھا جو کہ حضرت ابو بکر کی ایجاد تھی۔855 حضرت ابو بکر نے سامانِ جنگ کی فراہمی کے لیے یہ انتظام فرمایا تھا کہ مختلف ذرائع سے جو آمدنی ہوتی تھی اس کا ایک معقول حصہ فوجی اخراجات کے لیے علیحدہ نکال لیتے تھے جس سے اسلحہ اور بار برداری کے جانور خریدے جاتے تھے۔مزید جہاد کے اونٹوں اور گھوڑوں کی پرورش کے لیے بعض چرا گا ہیں مخصوص کر دی تھیں۔856 ایک سیرت نگار لکھتا ہے کہ حضرت ابو بکر کی عسکری حکومت کا نظام اس بدوی طریق کے زیادہ قریب تھا جو رسول اللہ صلی علیم کے عہد سے بھی پہلے قبائل عرب میں رائج تھا۔اس وقت حکومت کے پاس کوئی با قاعدہ منظم لشکر موجود نہ تھا بلکہ ہر شخص اپنے طور پر جنگی خدمات کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتا تھا۔جب لڑائی کا اعلان کر دیا جاتا تو قبائل ہتھیار لے کر نکل پڑتے اور دشمن کی جانب کوچ کر دیتے۔سامان رسد اور اسلحہ کے لیے قبائل مرکزی حکومت کی طرف نہ دیکھتے تھے بلکہ خود ہی ان چیزوں کا انتظام کرتے تھے۔حکومت کی طرف سے انہیں تنخواہ بھی ادا نہ کی جاتی تھی بلکہ وہ مالِ غنیمت ہی کو اپنا حق الخدمت سمجھتے تھے۔میدان جنگ میں جو مال غنیمت حاصل ہو تا تھا اس کا 4/5 حصہ جنگ میں حصہ لینے والوں کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا تھا اور پانچواں حصہ خلیفہ کی خدمت میں دارالحکومت میں ارسال کر دیا جاتا تھا جسے وہ بیت المال میں جمع کر دیتا تھا۔خمس کے ذریعہ سے سلطنت کے معمولی مصارف پورے کیے جاتے تھے۔857 جنگوں میں سپہ سالارانِ جنگ کو ، جو جنگوں کے امیر الامراء بنائے جاتے تھے ، ان کو حضرت ابو بکر نے جنگ کے بارے میں جو ہدایات دیں، ان کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر جنگ پر جانے والے سپہ سالاروں اور کمانڈروں کو بھی ہدایات دیتے تھے۔حضرت اسامہ کے لشکر کو خطاب فرماتے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ میں تم کو دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں۔تم خیانت نہ کرنا اور مالِ غنیمت سے چوری نہ کرنا۔تم بد عہدی نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا اور کسی چھوٹے