اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 360

حاب بدر جلد 2 360 حضرت ابو بکر صدیق نہیں کیا۔“ یعنی حضرت ابو بکر نے یہیں پر بس نہیں کیا، اس کو کافی نہیں سمجھا کہ چند صحابہ سے مشورہ لینے کے بعد آپ نے حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کر دیا ہو بلکہ باوجو د سخت نقاہت اور کمزوری کے آپ اپنی بیوی کا سہارا لے کر مسجد میں پہنچے اور لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! میں نے صحابہ سے مشورہ لینے کے بعد اپنے بعد خلافت کے لیے عمر کو پسند کیا ہے کیا تمہیں بھی ان کی خلافت منظور ہے ؟ اس پر تمام لوگوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔پس یہ بھی ایک رنگ میں انتخاب ہی تھا۔حضرت ابو بکر صدیق کی بیماری اور وصیت 821" تاریخ طبری میں مزید لکھا ہے حضرت ابو بکر کی علالت اور وفات کا ذکر یوں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو بکر کی بیماری کا باعث یہ ہوا کہ سات جمادی الآخر سوموار کے دن آپ نے غسل کیا۔اس روز خوب سر دی تھی۔اس وجہ سے آپ کو بخار ہو گیا جو پندرہ روز تک رہا۔یہاں تک کہ آپ نماز کے لیے باہر آنے کے قابل نہ رہے۔آپ نے حکم دے دیا کہ حضرت عمر نماز پڑھاتے رہیں۔لوگ آپ کی عیادت کے لیے آتے تھے مگر روز بروز آپ کی طبیعت خراب ہوتی گئی۔اس زمانے میں حضرت ابو بکر اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے جو اُن کو رسول اللہ صلی الہ ہم نے عنایت فرمایا تھا اور جو حضرت عثمان بن عفان کے مکان کے سامنے واقع تھا۔علالت کے زمانے میں زیادہ تر آپ کی تیمار داری حضرت عثمان کرتے رہے۔822 آپ پندرہ روز تک بیمار رہے۔کسی نے آپ سے کہا آپ طبیب کو بلا لیں تو اچھا ہے۔آپ نے فرمایا: وہ مجھے دیکھ چکا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ اس نے آپ سے کیا کہا ہے۔آپ نے فرمایا اس نے یہ کہا ہے کہ إِنِّي أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ ، میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔823 ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضرت ابو بکر بیمار ہوئے تو لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہم آپ کے لیے طبیب کو بلالیں تو حضرت ابو بکر نے فرمایا اس نے مجھے دیکھ لیا ہے اور کہا ہے کہ إِنِّي فَعَالُ لِمَا أُرِيدُ کہ میں جو چاہوں گا ضرور کروں گا۔824 بہر حال آپ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کا اب یہی ارادہ ہے کہ مجھے اپنے پاس بلا لے اور کسی طبیب کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت ابو بکر نے منگل کی شام کو بتاریخ بائیس جمادی الآخر تیرہ ہجری کو تریسٹھ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔آپؐ کا عہد خلافت دو سال تین مہینے دس روز رہا۔5 حضرت ابو بکر صدیق کے لبوں سے جو آخری الفاظ ادا ہوئے وہ قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ تھی که تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصّلِحِينَ (یوسف : 102) یعنی مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زمرے میں شمار کر۔826 825 حضرت ابو بکر صدیق کی انگوٹھی کا نقش نِعْمَ الْقَادِرُ اللہ تھا: