اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 359

اصحاب بدر جلد 2 359 حضرت ابو بکر صدیق 819 دونوں اصحاب سے فرمایا جو کچھ میں نے تم دونوں سے کہا ہے اس کا ذکر کسی اور سے نہ کرنا۔پھر حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ اگر میں حضرت عمر کو چھوڑتا ہوں تو میں عثمان سے آگے نہیں جاتا اور ان کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ تمہارے امور کے متعلق کوئی کمی نہ کریں۔اب میری یہ خواہش ہے کہ میں تمہارے امور سے علیحدہ ہو جاؤں اور تمہارے اسلاف میں سے ہو جاؤں۔حضرت ابو بکر کی بیماری کے دنوں میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ حضرت ابو بکڑ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ نے حضرت عمر کو لوگوں پر خلیفہ بنا دیا ہے حالا نکہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی موجودگی میں لوگوں سے کس طرح سلوک کرتے ہیں اور اس وقت کیا حال ہو گا جب وہ تنہا ہوں گے اور آپ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور وہ آپ سے رعیت کے بارے میں پوچھے گا یعنی اللہ تعالیٰ آپ سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھے گا۔حضرت ابو بکر لیٹے ہوئے تھے۔آپؐ نے فرمایا مجھے بٹھا دو۔جب اُن کو بٹھایا گیا اور وہ سہارا لے کر بیٹھے تو آپ نے کہا: کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو ؟ جب میں اپنے رب سے ملوں گا اور وہ مجھ سے پوچھے گا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے تیرے بندوں میں سے بہترین کو تیرے بندوں پر خلیفہ بنایا ہے۔حضرت مصلح موعود اس بارے میں تاریخ کی کتب کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کی وفات جب قریب آئی تو آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ میں کس کو خلیفہ مقرر کروں۔اکثر صحابہ نے اپنی رائے حضرت عمرہ کی امارت کے متعلق ظاہر کی اور بعض نے صرف یہ اعتراض کیا کہ حضرت عمر کی طبیعت میں سختی زیادہ ہے۔ایسا نہ ہو کہ لوگوں پر تشدد کریں۔آپؐ نے فرمایا یہ سختی اسی وقت تک تھی جب تک ان پر ذمہ داری نہیں پڑی تھی اب جبکہ ایک ذمہ داری ان پر پڑ جائے گی تو ان کی سختی کا مادہ بھی اعتدال کے اندر آجائے گا۔چنانچہ تمام صحابہ حضرت عمر کی خلافت پر راضی ہو گئے۔آپ کی، حضرت ابو بکر کی صحت چونکہ بہت خراب ہو چکی تھی، اس لیے حضرت ابو بکر نے اپنی بیوی اسماء کا سہارا لیا اور ایسی حالت میں جبکہ آپ کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے ، ہاتھ کانپ رہے تھے آپ مسجد میں آئے اور تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت دنوں تک متواتر اس امر پر غور کیا ہے کہ اگر میں وفات پا جاؤں تو تمہارا کون خلیفہ ہو۔آخر بہت کچھ غور کرنے اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ عمر کو خلیفہ نامزد کر دوں۔سو میری وفات کے بعد عمر تمہارے خلیفہ ہوں گے۔سب صحابہ اور دوسرے لوگوں نے اس امارت کو تسلیم کیا اور حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کی بیعت ہو گئی۔820 پھر اس بارے میں مزید ایک جگہ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ نامزد کیوں کیا، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ "اگر کہا جائے کہ جب قوم کے انتخاب سے ہی کوئی خلیفہ ہو سکتا ہے تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو نامزد کیوں کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے یونہی نامزد نہیں کر دیا بلکہ صحابہ سے آپ کا مشورہ لینا ثابت ہے۔فرق ہے تو صرف اتنا کہ اور خلفاء کو خلیفہ کی وفات کے بعد منتخب کیا گیا اور حضرت عمر کو حضرت ابو بکر کی موجودگی میں ہی منتخب کر لیا گیا۔پھر آپ نے اسی پر بس