اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 358
حاب بدر جلد 2 358 816 حضرت ابو بکر صدیق کے فصیل تک پہنچ گئے اور رسیوں کے پھندے لگا کر انہیں بطور سیڑھی کے فصیل پر مضبوطی سے پھنسا دیا اور متعد درسیاں فصیل سے لٹکا دیں۔اس پر رسیوں کے سہارے کافی زیادہ تعداد میں مسلمان فصیل پر چڑھ گئے اور اندر اتر گئے اور دروازوں تک پہنچ گئے۔دروازوں کی کنڈیوں کو تلوار سے کاٹ کر الگ کر دیا۔اس طرح اسلامی فوجیں دمشق میں داخل ہو گئیں۔حضرت خالد کی فوج مشرقی دروازے پر قابض ہو گئی تو رومیوں نے گھبراہٹ میں حضرت ابو عبیدہ سے مغربی دروازے پر صلح کی درخواست کی حالانکہ پہلے مسلمانوں کی طرف سے صلح کی درخواست کو مستر د کر چکے تھے اور جنگ پر بضد تھے۔حضرت ابو عبیدہ نے خوش دلی سے صلح کو منظور کر لیا۔اس پر رومیوں نے قلعہ کے دروازے کھول دیے اور مسلمانوں سے کہا کہ جلد آؤ اور ہمیں اس دروازے کے حملہ آوروں یعنی حضرت خالد سے بچاؤ۔نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دروازوں سے مسلمان صلح کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے اور حضرت خالد اپنے دروازے سے لڑائی کرتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے۔حضرت خالد اور باقی چاروں اسلامی امراء شہر کے وسط میں ایک دوسرے سے ملے۔حضرت خالد بن ولید نے اگر چہ دمشق کا کچھ حصہ لڑ کر فتح کیا تھا لیکن چونکہ حضرت ابو عبیدہ نے صلح منظور کر لی تھی اس لیے مفتوحہ علاقے میں بھی صلح کی شرائط تسلیم کی گئیں۔817 یہاں یہ واضح ہو کہ دمشق کی فتح کو بعض مورخین حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں بیان کرتے ہیں لیکن دمشق کا یہ معرکہ حضرت ابو بکر صدیق کے عہد خلافت میں شروع ہو چکا تھا۔البتہ اس کی فتح کی خبر جب مدینہ بھیجی گئی تو اس وقت حضرت ابو بکر کی وفات ہو چکی تھی۔تو یہ حضرت ابو بکڑ کے زمانے کی ہو بکڑ آخری جنگ تھی۔818 خلافت عمر مشاورت اور نامزدگی جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بلایا اور فرمایا مجھے عمر کے متعلق بتاؤ تو انہوں نے یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا۔اے رسول اللہ کے خلیفہ ! اللہ کی قسم وہ یعنی حضرت عمر آپ کی جو رائے ہے اس سے بھی افضل ہیں سوائے اس کے کہ ان کی طبیعت میں سختی ہے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ سختی اس لیے ہے کہ وہ مجھ میں نرمی دیکھتے ہیں۔اگر امارت ان کے سپر د ہو گئی تو وہ اپنی بہت سی باتیں جو اُن میں ہیں اس کو چھوڑ دیں گے کیونکہ میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں کسی شخص پر سختی کرتا تو وہ مجھے اس شخص سے راضی کرنے کی کوشش کرتے اور جب میں کسی شخص سے نرمی کا سلوک کرتا تو اس پر مجھے سختی کرنے کا کہتے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان بن عفان کو بلایا اور ان سے حضرت عمرؓ کے بارے میں دریافت فرمایا۔حضرت عثمان نے کہا ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی بہتر ہے اور ہم میں ان جیسا کوئی نہیں۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے