اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 353
حاب بدر جلد 2 353 حضرت ابو بکر صدیق بولص گھر میں داخل ہو کر زرہ پہنے لگا تو بیوی نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو۔بولص نے کہا کہ دمشق والوں نے مجھے اپنا امیر بنایا ہے۔اب عربوں کے ساتھ لڑنے جارہا ہوں۔بیوی نے اس سے کہا کہ ایسا مت کرو بلکہ گھر میں بیٹھے رہو۔تم میں عربوں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ان سے خواہ مخواہ مت لڑو۔میں نے آج ہی خواب میں دیکھا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کمان ہے اور ہوا میں چڑیوں کا شکار کر رہے ہو۔بعض چڑیاں زخمی ہو کر گر گئیں مگر پھر اٹھ کر اڑنے لگیں۔میں تعجب میں پڑ گئی کہ خواب میں ہی دیکھا کہ اچانک اوپر سے عقاب آگئے۔ایک نہیں کئی عقاب آگئے اور تم اور تمہارے ساتھیوں پر ایسے ٹوٹ پڑے کہ سب کو نیست و نابود کر دیا۔بولص نے کہا تو نے مجھے بھی خواب میں دیکھا تھا۔اس نے کہا ہاں۔عقاب نے زور سے تجھے ٹھونگ ماری اور تو بیہوش ہو گیا تھا۔بولص نے اس کی باتیں سن کے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا اور کہا کہ تیرے دل میں عربوں کا خوف بیٹھ گیا ہے۔خواب میں بھی وہی خوف ہے۔گھبر اؤمت! میں ابھی ان کے امیر کو تیر ا خادم اور اس کے ساتھیوں کو بکریوں اور خنزیروں کا چرواہا بنا دوں گا۔بولص نہایت تیزی سے چھ ہزار سوار اور دس ہزار پیدل لشکر لے کر مسلمانوں کے پیچھے ان کے مقابلہ کے لیے نکل گیا اور اسلامی فوج کی عورتوں، بچوں، مال مویشی اور ابو عبیدہ کے ایک ہزار لشکر کا تعاقب کیا۔مسلمان بھی مقابلے کے لیے تیار ہو گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے کفار پہنچ گئے۔بولص سب سے آگے تھا۔اس نے ایک دم چھ ہزار سپاہیوں کے ساتھ ابو عبیدہ پر حملہ کیا۔بولص کا بھائی بطرس پیدل فوج کے ساتھ عورتوں کی طرف بڑھا اور کچھ عورتیں گرفتار کر کے دمشق کی طرف واپس پلٹا۔ایک جگہ پر پہنچ ک اپنے بھائی کے انتظار میں بیٹھ گیا۔حضرت ابو عبیدہ نے یہ مصیبت نا گہانی دیکھ کر فرمایا کہ خالد کی رائے صحیح تھی کہ وہ لشکر کے پیچھے رہیں گے۔ادھر عورتیں اور بچے چلا رہے تھے۔اُدھر ایک ہزار مسلمانوں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔بولص نے حضرت ابو عبیدہ پر بار بار حملہ کیا۔آپ نے بھی شدید مقابلہ کیا۔حضرت سہل تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر حضرت خالد کے پاس پہنچے اور سارا قصہ سنایا۔حضرت خالد نے انا للہ پڑھا۔آپ نے حضرت رافع اور عبد الرحمن بن عوف کو ایک ایک ہزار لشکر دے کر روانہ کیا تاکہ بچوں اور عورتوں کی حفاظت ہو جائے۔اس کے بعد حضرت ضرار کو ایک ہزار سوار دے کر رخصت کیا اور خود بھی لشکر لے کر دشمن کی طرف چلے۔ادھر حضرت ابو عبیدہ بولص کے ساتھ مصروفِ جنگ تھے۔اتنے میں مختلف علاقوں سے آنے والے مسلمانوں کے لشکر پہنچ گئے۔انہوں نے ایسا حملہ کیا کہ دمشق سے آکر حملہ کرنے والے رومیوں کو اپنی ذلت و خواری کا یقین ہو گیا۔حضرت ضر الر آگ کے شعلوں کی طرح بولص کی طرف بڑھے۔اس نے جب آپ کو دیکھا تو کانپ اٹھا اور پہچان لیا۔بولص گھوڑے سے اتر کر پیدل بھاگنے لگا۔حضرت خیر اڑ نے بھی اس کا تعاقب کیا اور اس کو زندہ پکڑ لیا اور قید کر لیا۔اس جنگ میں کفار کے چھ ہزار آدمیوں میں سے بمشکل سو آدمی زندہ بچے تھے۔حضرت ضیر اٹر پریشان تھے کیونکہ حضرت خولہ بھی قید ہو چکی تھیں۔حضرت خالد نے کہا کہ گھبراؤ نہیں ہم نے