اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 345
اصحاب بدر جلد 2 345 حضرت ابو بکر صدیق ہو۔ہم نے صلح کی ایک تجویز سوچی ہے۔لہذا مناسب ہے کہ تمہارا سر دار مجھ سے گفتگو کے لیے آگے آ جائے۔حضرت خالد آگے آئے اور اسے کہا کہ تو جو پیغام لایا ہے اسے بیان کر مگر سچائی کو مد نظر رکھنا۔اس نے کہا کہ میں اس غرض سے حاضر ہوا ہوں کہ ہمارا امیر خونریزی کو پسند نہیں کرتا۔اب تک جو لوگ قتل ہوئے ہیں ان کو اس پر غم ہے۔اس لیے ان کی یہ رائے ہے کہ تم لوگوں کو کچھ مال دے کر ایک معاہدہ کریں تا کہ جنگ بندی ہو جائے۔دورانِ گفتگو اللہ تعالیٰ نے جو قاصد آیا تھا اس کے دل میں ایسار عب ڈالا کہ اس نے حضرت خالد سے اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے بدلے اپنے سردار کا پورا منصوبہ حضرت خالد کے سامنے بیان کر دیا۔سارا منصوبہ جو اس کو پتہ تھا کہ کس طرح چھپ کر حضرت خالد پہ حملہ کرنا ہے۔حضرت خالد نے فرمایا کہ اگر تم نے غداری نہیں کی تو میں تجھے اور تیرے اہل و عیال کو امان دیتا ہوں۔پھر وہ واپس چلا گیا اور اپنے سردار کو جا کر بتایا کہ حضرت خالد ان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔وہ بہت خوش ہوا اور جو جگہ بات چیت کے لیے معین کی گئی تھی وہاں اپنے دس سپاہیوں کو ایک ٹیلے کے پیچھے چھپا کر گھات لگانے کا حکم دیا۔حضرت خالد جیسا کہ اس نے بتادیا تھا اس کے منصوبے کو جان چکے تھے۔چنانچہ آپ نے حضرت ضرار سمیت دس مسلمانوں کو اس مقام کی طرف بھیجا جہاں دشمن گھات لگائے ہوئے تھا۔مسلمانوں نے اس جگہ پہنچ کر رومی سپاہیوں کو جالیا اور سب کو قتل کر کے خود ان کی جگہ بیٹھ گئے۔حضرت خالد رومیوں کے امیر سے بات چیت کے لیے چلے گئے۔دونوں طرف کی فوجیں بالکل ایک دوسرے کے مقابل تیار کھڑی تھیں۔رومی امیر بھی وہاں پہنچ گیا۔حضرت خالد نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔اگر تم اسلام قبول کر لو تو تم ہمارے بھائی بن جاؤ گے ورنہ جزیہ دو یا لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ۔رومی امیر کو گھات لگائے ہوئے سپاہیوں پر بھر و سا تھا۔چنانچہ وہ ایک دم حضرت خالد پر تلوار سے حملہ آور ہوا اور آپ کے دونوں بازوؤں کو پکڑ لیا۔حضرت خالد نے بھی اس پر حملہ کیا۔رومی امیر نے اپنے آدمیوں کو آواز دی کہ جلدی دوڑو، میں نے مسلمانوں کے امیر کو پکڑ لیا ہے۔ٹیلے کے پیچھے سے صحابہ کرام نے یہ آواز سنی تو تلوار میں سونت کر اس کی طرف لپکے۔وردان پہلے تو یہ سمجھا کہ یہ میرے آدمی ہیں مگر جب حضرت ضرار پر نظر پڑی تو بد حواس ہو گیا اس کے بعد حضرت خیر اثر اور دوسرے سپاہیوں نے مل کر اس کا کام تمام کر دیا۔جب رومیوں کو اپنے امیر کی موت کی خبر ہوئی تو ان کے حوصلے پست ہو گئے۔792 اس کے بعد لوگ ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے اور لڑائی شروع ہو گئی۔رومیوں کے ایک اور سردار نے مسلمانوں کی لڑائی کا حال دیکھا تو اپنے لوگوں سے کہا کہ میرے سر کو کپڑے سے باندھ دو۔انہوں نے اس سے پوچھا کیوں؟ اس نے کہا کہ آج کا دن بڑا منحوس ہے میں اس کو دیکھنا نہیں چاہتا۔میں نے دنیا میں آج تک ایسا سخت دن نہیں دیکھا۔راوی کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے اس کا سر قلم کیا تو وہ کپڑے میں لپٹا ہو ا تھا۔793