اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 336
ناب بدر جلد 2 336 حضرت ابو بکر صدیق بھیجے کہ انہیں جمع کر کے لائیں۔چنانچہ لوگ ہر مشکل اور آسان راستوں سے ہوتے ہوئے ہر قل کی طرف آئے۔لہذا میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو اس کی اطلاع بھیج دوں تا کہ اس بارے میں آپ فیصلہ کر سکیں۔حضرت ابو بکر نے حضرت ابوعبیدہ کی طرف جو ابا لکھا کہ تمہارا خط مجھے ملا میں نے اس کو سمجھا جو تم نے شاہ روم ہر قل کے متعلق تحریر کیا ہے۔پھر فرمایا کہ انطاکیہ میں اس کا قیام کرنا اس کی اور اس کے ساتھیوں کی شکست اور اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اور مسلمانوں کی فتح ہے ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔تم نے جو ہر قل کے اپنے مملکت کے لوگوں کو جمع کرنے اور کثیر تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے متعلق تحریر کیا ہے تو یہ ہم اور تم پہلے سے جانتے ہیں کہ وہ ایسا کریں گے کیونکہ کوئی قوم بغیر قتال کے اپنے بادشاہ کو نہ چھوڑ سکتی ہے اور نہ اپنی مملکت سے نکل سکتی ہے۔پھر آپ نے لکھا کہ الحمد للہ ! مجھے یہ معلوم ہے کہ ان سے لڑنے والے بہت سے مسلمان موت سے اسی قدر محبت رکھتے ہیں جس قدر دشمن زندگی سے محبت رکھتا ہے اور اپنے قتال میں اللہ سے اجر عظیم کی امید رکھتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اس سے زیادہ محبت رکھتے ہیں جتنی انہیں کنواری عورتوں اور قیمتی مال سے ہوتی ہے۔ان میں سے ایک مسلمان جنگ کے وقت ہزار مشرکین سے بہتر ہے۔تم اپنی فوج کے ساتھ ان سے ٹکراؤ اور جو مسلمان تم سے غائب ہیں اس کی وجہ سے پریشان نہ ہو۔یقینا اللہ جس کا ذکر بہت بلند ہے وہ تمہارے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ میں تمہاری مدد کے لیے لوگوں کو بھیج رہا ہوں یعنی اور فوج بھی بھیج رہا ہوں جو تمہارے لیے کافی ہو گی اور مزید کی ان شاء اللہ خواہش نہ رہے گی۔والسلام 776 اسی طرح حضرت عمرو بن عاص کا بھی خط حضرت ابو بکر کو ملا۔حضرت ابو بکر نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ تمہارا خط مجھے موصول ہو ا جس میں تم نے رومیوں کے فوج اکٹھی کرنے کا ذکر کیا ہے تو یاد رہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی الیم کے ساتھ کثرت فوج کی بنا پر ہمیں فتح و نصرت نہیں عطا کی۔ہماری تو حالت یہ تھی کہ ہم رسول اللہ صلی الیتیم کے ساتھ جہاد کرتے اور ہمارے پاس صرف دو گھوڑے ہوتے اور اونٹ پر بھی باری باری سواری کرتے۔احد کے دن ہم رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی گھوڑا تھا جس پر رسول اللہ صلی الی و کم سوار تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے دشمن پر غلبہ عطا فرما تا اور ہماری مدد کر تا تھا۔آپ نے فرمایا کہ عمر و! یاد رکھو اللہ کا سب سے بڑا مطیع وہ ہے جو معصیت سے سب سے زیادہ بغض رکھے۔خود بھی اللہ کی اطاعت کرو اور اپنے ساتھیوں کو بھی اطاعت الہی کا حکم دو۔777 حضرت یزید بن ابو سفیان نے بھی حضرت ابو بکر کو خط میں وہاں کے حالات لکھتے ہوئے مدد طلب کی جس کے جواب میں حضرت ابو بکر نے لکھا کہ جب ان سے تمہارا مقابلہ ہو تو اپنے ساتھیوں کو لے کر ان پر ٹوٹ پڑو اور ان سے قتال کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے