اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 332
حاب بدر جلد 2 332 حضرت ابو بکر صدیق اور بڑا شہر تھا۔حضرت ابو عبیدہ کے لشکر کی تعداد سات ہزار تھی جبکہ ایک روایت کے مطابق آپ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سے چار ہزار تک تھی۔حضرت ابو عبیدہ راستے میں گزرتے ہوئے بلقاء کی ایک بستی آب کے پاس سے گزرے۔یہ کوئی شہر نہیں تھا بلکہ خیموں کی ایک بستی تھی۔وہاں کے لوگوں سے آپ کی جنگ ہوئی مگر پھر ان لوگوں نے آپ سے صلح کی درخواست کی جس پر آپ نے ان کے ساتھ صلح کر لی۔یہ سب سے پہلی صلح تھی جو شام کے علاقے میں ہوئی۔767 حضرت ابو بکر نے حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ قیس بن ہبیرہ کو بھی روانہ فرمایا تھا۔حضرت ابو بکر نے ان کے متعلق ابو عبیدہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: تمہارے ساتھ عرب کے شہسواروں میں سے ایک عظیم شرف و منزلت کا شخص ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ جہاد کے معاملے میں اس سے بڑھ کر کوئی نیک نیت ہو۔اس کی رائے اور مشورے سے اور جنگی قوت سے مسلمان بے نیاز نہیں ہو سکتے۔اس کو اپنے سے قریب رکھنا اور اس کے ساتھ لطف و کرم کا بر تاؤ کرنا اور اسے یہ محسوس کرانا کہ تم اس سے بے نیاز نہیں ہو۔اس سے تمہیں اس کی خیر خواہی حاصل رہے گی اور دشمن کے مقابلے میں اس کی کوششیں تمہارے ساتھ ہوں گی۔حضرت ابو عبیدہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابو بکر نے قیس بن بیروہ کو بلایا اور فرمایا تمہیں ابو عبیدہ امین امت کے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ان پر اگر ظلم کیا جائے تو وہ اس کے بدلے میں ظلم نہیں کرتے اور اگر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے تو معاف کر دیتے ہیں اور ان سے تعلق توڑا جائے تو اس کو جوڑنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔مومنوں کے ساتھ بڑے رحیم ہیں اور کفار کے مقابلے میں سخت ہیں۔تم ان کی حکم عدولی نہ کرنا اور یہ تمہیں خیر ہی کا حکم دیں گے۔میں نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمہاری بات سنیں۔لہذا تم انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے مشورہ دینا۔ہم سنتے آئے ہیں کہ تم شرک اور دور جاہلیت میں جنگ کے تجربہ کار سردار ہو جبکہ جاہلیت میں گناہ اور کفر پایا جاتا تھا۔لہذا تم اپنی قوت اور بہادری کو اسلام کی حالت میں کافروں اور ان لوگوں کے خلاف استعمال میں لاؤ جنہوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اجر عظیم اور مسلمانوں کے لیے عزت و غلبہ رکھا ہے۔یہ نصیحت سن کر قیس بن هبيرہ نے عرض کیا، اگر آپ زندہ رہے اور میں بھی زندہ رہا تو آپ کو میرے بارے میں مسلمانوں کی حفاظت اور مشرکوں کے خلاف جہاد کی ایسی خبریں پہنچیں گی جو آپ کو پسندیدہ ہوں گی اور آپ کو خوش کر دیں گی۔حضرت ابو بکر نے فرمایا تم جیسا شخص ہی ایسا کر سکتا ہے اور جب ابو بکر کو جابیہ میں (رومیوں کے ) دو کمانڈروں کے ساتھ ان کی مبارزت اور ان دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا قیس نے بیچ کر دکھایا اور اپنا وعدہ پورا کر دیا۔768