اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 312 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 312

حاب بدر جلد 2 312 حضرت ابو بکر صدیق جنگ دُومَةُ الْجَنْدَل 737 پھر جنگ دُوْمَةُ الْجَندَل ہے۔یہ بھی بارہ ہجری کی ہے۔دُوْمَةُ الْجَنْدَل دمشق سے پانچ راتوں اور مدینہ سے پندرہ راتوں کی مسافت پر ایک شہر ہے۔یعنی اس زمانے کے جو سفر کے ذرائع تھے اس کے مطابق۔شام کا یہ شہر مدینہ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔حضرت عیاض بن غنم جنہیں حضرت ابو بکر نے دومہ کی طرف بھیجا تھا انہیں طویل مدت تک دشمن کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اس لیے وہ حضرت خالد سے نہ مل سکے۔جب حضرت خالد نے ولید بن عقبہ کو عین التمر کی فتح کی خبر دے کر حضرت ابو بکر کی خدمت میں روانہ کیا تو حضرت ابو بکر کو عیاض کے بارے میں پریشانی ہوئی۔چنانچہ آپ نے ولید بن عقبہ کو عیاض کی مدد کے لیے بھیج دیا۔جب ولید بن عقبہ حضرت عیاض کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ حضرت عیاض نے دشمن کو گھیر رکھا ہے اور دشمن نے انہیں گھیر رکھا ہے اور ان کا راستہ بھی روک رکھا ہے۔ولید بن عقبہ نے حضرت عیاض سے کہا کہ بعض اوقات فوج کی کثرت تعداد کے مقابلے میں ایک عقل کی بات زیادہ کار گر ہوتی ہے۔آپ حضرت خالد بن ولید کے پاس قاصد بھیجیے اور ان سے مدد طلب کیجئے۔حضرت عیاض کے لیے ولید کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ انہیں دومۃ الجندل پہنچے ہوئے سال بھر ہو چکا تھا اور ابھی تک فتح کی کوئی شکل نہ نظر آتی تھی۔حضرت عیاض نے ایسا ہی کیا۔جب ان کا قاصد مدد طلب کرنے کے لیے حضرت خالد کے پاس پہنچا تو اس وقت عین التمر فتح ہو چکا تھا۔انہوں نے حضرت عیاض کے نام ایک مختصر خط دے کر قاصد کو فوراً واپس کر دیا کہ ان کی پریشانی کچھ کم ہو جائے۔خط میں لکھا تھا کہ تھوڑا ٹھہریں۔سواریاں آپ کے پاس پہنچ رہی ہیں جن پر شیر سوار ہوں گے اور تلواریں چمک رہی ہوں گی لشکر فوج در فوج پہنچ رہے ہوں گے۔پھر حضرت خالد بن ولید کی دومۃ الجندل روانگی کے بارے میں آتا ہے کہ جب حضرت خالد عین التمر کی فتح سے فارغ ہوئے تو اس میں عویم بن کاہل اسلمی کو نگران مقرر کیا اور خود اپنی فوج کو جو عین التمر میں تھی لے کر دومۃ الجندل کی طرف روانہ ہوئے۔تین سو میل کا یہ فاصلہ حضرت خالد بن ولید نے دس روز سے بھی کم عرصہ میں طے کیا۔اہل دومہ کو حضرت خالد کے آنے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنے حلیف قبائل سے مدد طلب کی۔یہ قبائل اپنے ساتھ کئی اور قبائل کو ملا کر دُومة الجندل پہنچے اور ان کی تعداد اس وقت سے کئی گنا زیادہ تھی جب ایک سال قبل حضرت عیاض ان کی سرکوبی کے لیے پہنچے تھے۔دُوْمَةُ الجندل کی فوج دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔فوج کے دو سر دار تھے۔ایک اکیلا بن عبد الملک اور دوسرا جودی بن ربیعہ۔جب ان کو حضرت خالد کی آمد کی اطلاع ملی تو ان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔اکیدر نے کہا کہ میں خالد کو خوب جانتا اور 738