اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 304
حاب بدر جلد 2 جنگ چیره 304 حضرت ابو بکر صدیق جنگ جیره، ربیع الاول بارہ ہجری کے اوائل میں حضرت خالد نے آمغیشیا سے حیرہ کی طرف کوچ کیا۔725 اس کے بارے میں یہ ہے کہ حضرت خالد نے آمغیشیا سے دریائے فرات کے قریب، حیرہ کی طرف کوچ کیا۔حیرہ عیسائی عربوں کا قدیم مرکز تھا اور اس وقت حیرہ کا حاکم ایک ایرانی تھا۔حیرہ کے حاکم کو اندازہ تھا کہ اب خالد کی فوجوں کا رخ اس کی طرف ہو گا اس لیے اس نے حضرت خالد سے جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں اور اس نے یہ اندازہ بھی کر لیا کہ خالد ادھر آنے کے لیے دریائی راستہ اختیار کریں گے اور کشتیوں پر سوار ہو کر پہنچیں گے۔اس نے اپنے بیٹے کو دریائے فرات کا پانی روکنے کا حکم دیا تا کہ خالد کی کشتیاں دلدل میں پھنس جائیں اور خود اس کے پیچھے چلا اور حیرہ کے باہر اپنے لشکر کو ٹھہرایا۔جب حضرت خالد آمغِیشیا سے روانہ ہوئے اور سامان اور مالِ غنیمت کے ساتھ فوج بھی کشتیوں میں سوار کرا دی گئی تو پانی کی کمی کی وجہ سے کشتیاں زمین کے ساتھ لگنے کی وجہ سے حضرت خالد کو بڑی پریشانی ہوئی۔ملاحوں نے کہا کہ اہل فارس نے فرات کا پانی اس طرف آنے سے روک کر نہروں کو کھول دیا ہے۔تمام پانی دوسرے راستوں کی طرف یہ رہا ہے۔جب تک نہریں بند نہ ہوں گی ہمارے پاس پانی نہیں آسکتا۔اس پر حضرت خالدہ فور أسواروں کا ایک دستہ لے کر حاکم کے بیٹے کی طرف بڑھے۔راستے میں دریائے عقیق کے کنارے پر لشکر کے ایک حصہ سے حضرت خالد کی مڈھ بھیڑ ہوئی۔حضرت خالد نے ان پر اچانک حملہ کر دیا جبکہ وہ بالکل غافل تھے۔حضرت خالد نے ان سب کا خاتمہ کر دیا۔پھر آگے بڑھے اور دیکھا کہ حاکم چیزہ کا بیٹا در پا کا رخ پھیرنے کے کام کی نگرانی کر رہا ہے۔انہوں نے اچانک اس پر حملہ کر کے اس کو اور اس کی فوج کو قتل کر دیا اور بند توڑ کر دریا میں دوبارہ پانی جاری کروا دیا اور پھر خود وہاں کھڑے ہو کر اس کام کی نگرانی کرتے رہے یہاں تک کہ کشتیوں نے دوبارہ سفر شروع کر دیا۔اس کے بعد حضرت خالد نے اپنے تمام سرداروں کو جمع کیا اور خورنق کے مقام پر پہنچ گئے۔خورنق حیرہ کے قریب ایک قلعہ تھا مگر جب حاکم کو معلوم ہو گیا کہ ارد شیر مر گیا ہے اور خود اس کا بیٹا بھی جنگ میں مارا جا چکا ہے تو وہ بغیر لڑے دریائے فرات عبور کر کے بھاگ گیا لیکن حاکم کے بھاگ جانے کے باوجود اہل حیرہ نے ہمت نہیں ہاری اور وہ قلعہ بند ہو گئے۔یہاں چار قلعے تھے اور چاروں قلعوں میں محصور ہو کر لڑائی کی تیاری کرنے لگے۔لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولید نے قلعوں کا محاصرہ مندرجہ ذیل طریقہ سے کیا۔ضرار بن ازور قصر ابیض کے محاصرہ کے لیے مقرر ہوئے۔اس میں ایاس بن قبیصہ طائی پناہ گزین تھا۔ضرار بن خطاب قصر عدسپین کے محاصرے کے لیے مقرر ہوئے۔اس میں عدی بن عدی پناہ گزین تھا۔ضرار بن مقرن قصر بنی مازن کے محاصرہ کے لیے مقرر ہوئے اس میں ابن اشکال پناہ گزین تھا۔مثلی بن حارثہ