اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 290
صحاب بدر جلد 2 290 حضرت ابو بکر صدیق لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دیں۔اگر وہ اسے قبول کر لیں تو ٹھیک ورنہ ان سے جزیہ وصول کریں اور اگر وہ جزیہ دینے سے انکار کریں تو پھر ان سے قتال کریں اور حکم فرمایا کہ کسی کو اپنے ساتھ قتال کے لیے نکلنے پر مجبور نہ کریں اور اسلام سے مرتد ہونے والے کسی بھی و مدد نہ لیں خواہ وہ بعد میں اسلام میں واپس بھی آچکا ہو اور جس مسلمان کے پاس سے گزریں تو اسے اپنے ساتھ ملالیں۔پھر حضرت ابو بکر حضرت خالد کی امداد کے لیے لشکر کی تیاری میں لگ گئے۔688 حضرت خالد بن ولید نے یمامہ سے عراق کی طرف کوچ کے وقت اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا اور سب کو ایک ہی راستے پر روانہ نہیں کیا تھا بلکہ حضرت ممثٹی کو اپنی روانگی سے دوروز قبل روانہ کیا۔ان کے بعد عدی بن حاتم اور عاصم بن عمرو کو ایک ایک دن کے فاصلے سے روانہ کیا۔سب کے بعد حضرت خالد بن ولید خود روانہ ہوئے۔ان سب سے حفیر پر جمع ہونے کا وعدہ کیا تا کہ وہاں سے ایک دم اپنے دشمن سے ٹکرائیں۔حفیر بصرہ سے مکہ کی طرف جاتے ہوئے پہلی منزل ہے۔اور یہ لکھا ہے کہ یہ سر حد فارس کی تمام سر حدوں میں شان و شوکت کے لحاظ سے سب سے بڑی اور مضبوط سرحد تھی اور اس کا حاکم ھر ھر تھا۔یہاں کا سپہ سالار ایک طرف خشکی میں عربوں سے نبرد آزما ہو تا تھا اور دوسری طرف سمندر میں اہل ہند سے۔689 بہر حال حضرت خالد کے لشکر کی تعداد بہت کم تھی کیونکہ ایک تو اس کا بہت حصہ جنگ یمامہ میں کام آپکا تھا۔دوسرے حضرت ابو بکڑ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ اگر کوئی شخص عراق نہ جانا چاہے تو اس پر زبر دستی نہ کی جائے اور اس کے ساتھ ہی ایک نہایت ہی اہم ہدایت یہ بھی دی کہ اس کے علاوہ کسی سابق مرتد کو جو دوبارہ اسلام لے بھی آیا ہو اس وقت تک اسلامی لشکر میں شامل نہ کیا جائے جب تک خلیفہ سے خاص طور پر اجازت حاصل نہ کر لی جائے۔حضرت خالد نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں مزید کمک بھیجنے کے لیے لکھا تو انہوں نے صرف ایک شخص قعقاع بن عمرو کو ان کی مدد کے لیے روانہ فرمایا۔لوگوں کو بہت تعجب ہوا اور انہوں نے عرض کیا آپ خالد کی مدد کے لیے صرف ایک شخص کو روانہ کر رہے ہیں حالانکہ لشکر کا بیشتر حصہ اب ان سے علیحدہ ہو چکا ہے، الگ ہو چکا ہے۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا جس لشکر میں قعقاع جیسا شخص شامل ہو وہ کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔پھر بھی قعقاع کے ہاتھ آپ نے خالد کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا کہ وہ ان لوگوں کو اپنے لشکر میں شامل ہونے کی ترغیب دیں جو رسول اللہ صلی علیکم کے بعد بدستور اسلام پر قائم رہے اور جنہوں نے مرتدین کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا۔یہ خط موصول ہونے پر حضرت خالد نے اپنے لشکر کو ترتیب دینا شروع کر دیا۔0 عراق کے کاشتکاروں کے سلسلہ میں حضرت ابو بکر نے جو وصیت کی تھی اور جو حکمت عملی تھی اس کے بارے میں لکھا ہے کہ عرب عراق کی سرزمینوں میں بطور کاشتکار کام کرتے تھے۔فصل تیار 690