اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 284

اب بدر جلد 2 284 حضرت ابو بکر صدیق اور اس کا اسلام قبول کر لیا اور اس کے گھر والے اس کے سپر د کر دیے۔نیز فرمایا: جاؤ اور مجھے تمہارے متعلق خیر کی خبریں پہنچیں۔اسی طرح حضرت ابو بکر نے تمام قیدیوں کو بھی آزاد کر دیا اور وہ سب اپنے ا۔علاقوں میں چلے گئے۔581 ایک روایت کے مطابق اپنی قوم سے بد عہدی کرنے کے باعث اشعث اپنے قبیلے میں واپس جانے کی جرات نہ کر سکا اور قید سے چھوٹنے کے بعد ام فروہ کے ساتھ مدینہ میں قیام پذیر رہا۔حضرت عمرؓ کے عہد میں جب عراق اور شام کی جنگیں پیش آئیں تو وہ بھی اسلامی فوجوں کے ہمراہ ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرنے کے لیے باہر نکلا اور کار ہائے نمایاں انجام دیے جس کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں اس کا وقار پھر بلند ہو گیا اور اس کی گم گشتہ عزت پھر واپس مل گئی۔الغرض جب تک پوری طرح امن و امان قائم نہ ہو گیا اور اسلامی حکومت کی بنیادیں مستحکم نہ ہو گئیں حضرت مہاجر اور حضرت عکرمہ اس وقت تک حضر موت اور کنڈہ میں ہی مقیم رہے۔مرتد باغیوں کے ساتھ یہ آخری جنگیں تھیں۔ان کے بعد عرب سے بغاوت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا اور تمام قبائل حکومت اسلامیہ کے زیر نگیں آگئے۔حضرت مہاجر نے اس علاقے میں امن و امان قائم رکھنے اور بغاوت اور سرکشی کے اسباب کے مکمل طور پر نابود کرنے کے لیے اسی سختی سے کام لیا جس سے وہ یمن میں کام لے 682 چکے تھے۔2 حضرت ابو بکر نے حضرت مُہاجر کو یمن اور حضر موت میں سے کسی ایک علاقے کو اختیار کرنے کے بارے میں لکھا تو انہوں نے یمن کو اختیار کر لیا۔اس طرح یمن پر دو امیر مقرر ہوئے۔حضرت ابو بکر نے مرتدین اور باغیوں کے خلاف کام کرنے والے عمال کو تحریر فرمایا: انا بعد ! میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ امر یہ ہے کہ آپ لوگ حکومت میں صرف انہی اشخاص کو شریک کریں جن کا دامن ارتداد اور بغاوت کے داغ سے پاک رہا ہو۔بے شک وہ واپس آگئے ہیں لیکن یہ دیکھو ان میں وہ شامل تو نہیں جو پہلے ارتداد اختیار کر چکے ہیں یا بغاوت کر چکے ہیں۔پھر فرمایا کہ آپ سب اسی پر عمل کریں اور اسی پر کار بند رہیں۔فوج میں جو لوگ واپسی کے خواہاں ہوں ان کو واپسی کی اجازت دے دو اور دشمن سے جہاد کرنے میں کسی مرتد باغی سے ہر گز مدد نہ لو۔683 مدعیان نبوت کے خلاف جہاد ان کی بغاوت و سرکشی کی وجہ سے تھا اکثر مصنفین اور خاص طور پر اس زمانے کے سیرت نگار عموماً حضرت ابو بکر کی ان جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ گویا جن لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا ان کے خلاف یہ سارا جہاد کیا گیا اور تلوار کے زور سے ان کا قلع قمع کیا گیا کیونکہ یہی ان کی شرعی سزا تھی لیکن تاریخ و سیرت کا مطالعہ کرنے والا ہر گز اس بات کی تائید نہیں کر سکتا۔جیسا کہ قرآن کریم اور آنحضرت صلی ایم کے مبارک طرز عمل اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نہ تو آنحضرت صلی ہم نے کبھی