اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 278
اصحاب بدر جلد 2 278 حضرت ابو بکر صدیق تو عتاب بن اُسید کے بھائی خالد بن اسید امیر مکہ بھی ساتھ ہو لیے۔جب یہ لشکر طائف سے گزرا تو عبد الرحمن بن ابی العاص اپنے ساتھیوں سمیت اس لشکر میں شامل ہو گئے۔اسی طرح راستے میں مختلف قبائل کے لوگ آپ کے لشکر میں شامل ہوتے گئے۔673 عمرو بن معدی کرب کی گرفتاری الله سة تو یہ کافی بڑا لشکر آگے چلتا گیا۔عمر و بن مغدِی گرب اور قیس بن مكشوح کی گرفتاری کے بارے میں لکھا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ عمرو بن معدی گرب نے اپنی بہادری اور طاقت کے زعم میں اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور قیس بن عَبدِ يَغُوث کو بھی ساتھ ملا لیا تھا۔یہ دونوں ہر قبیلے میں جاتے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر علم بغاوت بلند کرنے پر آمادہ کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے نجران کے عیسائی باشندوں کے جنہوں نے رسول اللہ صلی علیم سے عہد مودت باندھا تھا اور حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں بھی اپنے معاہدے پر بدستور قائم رہے، باقی تمام قبائل نے عمر و بن مغدِی گرب کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔خدا کی قدرت کہ اہل یمن کو جب حضرت مہاجر کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ یمن کی طرف آمد کی اطلاعیں ملنی شروع ہو ئیں تو اہل یمن شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ وہ حضرت مُہا جڑ کے لشکر کا سامنا کرنے کی تاب نہیں لا سکیں گے ! یہ لوگ ابھی اسی کیفیت میں تھے کہ ان کے سرداروں میں اور عمر و بن مَعْدِی گرب میں پھوٹ پڑ گئی اور اس کے باوجود کہ انہوں نے حضرت مہاجر سے مقابلہ کرنے کا عہد کیا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو زک پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے اور آخر عمرو بن معدی گرب نے مسلمانوں کے ساتھ مل جانے کا فیصلہ کیا اور ایک رات اس نے اپنے آدمیوں کے ساتھ قیس کی رہائش گاہ پر حملہ کیا اور اسے گرفتار کر کے حضرت مہاجر کے سامنے پیش کر دیا لیکن حضرت مہاجر نے صرف قیس کو ہی گرفتار کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ساتھ ہی عمر و بن مغدِی گرب کو بھی قید کر لیا اور ان دونوں کے حالات حضرت ابو بکر کی خدمت میں لکھے اور ان دونوں کو حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیا۔نہیں اور عمرو بن معدی گرب حضرت ابو بکر کے پاس لائے گئے۔حضرت ابو بکر نے قیس سے فرمایا: کیا تم اللہ کے بندوں پر ظلم و زیادتی کرتے ہوئے انہیں قتل کرتے رہے ہو اور تم نے مومنین کو چھوڑ کر مشرکوں اور مرتد باغیوں کو دوست بنالیا ہے۔اگر اس کا کوئی واضح جرم مل جاتا تو حضرت ابو بکر نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔میں نے ڈاڈ ویہ کے قتل کی سازش اور اس میں شرکت سے صاف انکار کر دیا اور یہ ایسا عمل تھا کہ جو خفیہ طور پر سر انجام دیا گیا تھا اور اس بارے میں قیس کے خلاف کوئی واضح ثبوت نہ مل سکا۔لہذا حضرت ابو بکر نے اسے چونکہ ثبوت کوئی نہیں تھا قتل کرنے سے اعراض کیا اور اس کو چھوڑ دیا۔پھر دوسرے کی باری آئی اور حضرت ابو بکر نے عمرو بن مغدِی گرب سے کہا کہ تمہیں رسوائی محسوس نہیں ہوتی کہ ہر روز تم شکست کھاتے ہو یا تمہارے گرد گھیراتنگ ہو جاتا ہے۔اگر