اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 277
محاب بدر جلد 2 قائم ہو گئی۔10 670 277 حضرت ابو بکر صدیق لیکن یمن میں ایک دفعہ پھر بغاوت اٹھی۔رسول اللہ صلی ا یکم کی وفات کا جب یمن میں چرچا ہوا تو سدھر تے حالات پھر خراب ہو گئے۔قیس بن عَبدِ يَغُوث جو نیز وز اور دا ذُویہ کو ملا کر آئؤد سے باغی ہو گیا تھا اور جس نے ان کے تعاون سے اَسود کو قتل کیا تھا اب پھر اسلام کی وفاداری سے منحرف ہو گیا۔لائق اور اولو العزم آدمی تھا۔قومی عصبیت سے سرشار تھا۔یمن میں فارسیوں کا اقتدار اسے ہمیشہ سے کھٹکتا رہتا تھا۔اس کے خاتمہ کے بعد وہ ابناء کی خوشحالی اور ان کی اجتماعی اور اقتصادی برتری کو خاک میں ملانا چاہتا تھا۔ایک کامیاب فوجی لیڈر وہ پہلے سے تھا اس نے آسود کے فوجی لیڈروں سے ساز باز کی اور ابناء کو ملک سے نکالنے کا منصوبہ بنالیا۔فیروز اور داد و یہ دونوں سے اس نے تعلقات خراب کر لیے۔دا ذُویہ کو دھوکا سے قتل کر دیا۔فیروز قتل ہوتے ہوتے بچ گیا۔فیروز نے حضرت ابو بکر کو اپنی اور ابناء کی وفاداری سے مطلع کر کے درخواست کی کہ ہماری مدد کیجیے۔ہم اسلام کے لیے ہر قربانی کرنے کو تیار ہیں۔671 صا الله لکھا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو حضر موت کے علاقوں پر آپ صلی علیہم کے عامل زیاد بن لبید تھے۔حضرت زیاد بن لبید صحابی رسول صلی لنی کیم تھے۔حضرت زیاد کا ایک بیٹا عبد اللہ تھا۔عقبہ ثانیہ میں ستر اصحاب کے ساتھ آپ صلی ایم کے پاس حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد جب مدینہ واپس آئے تو انہوں نے آتے ہی اپنے قبیلے بَنُو بَيَاضَہ کے بت توڑ دیے جو بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔پھر آپ رسول اللہ صلی الیہ نیم کے پاس مکہ چلے گئے اور وہیں مقیم رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی الم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ نے بھی ہجرت کی۔اس لیے حضرت زیاد کو مہاجر انصاری کہا جاتا ہے۔مہاجر بھی ہوئے اور انصاری بھی تھے۔حضرت زیاد غزوہ بدر، احد ، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صل الیم کے ہمرکاب تھے۔آنحضور صلی علیہ کی ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اور قبیلہ بنوبیاضہ کے محلہ سے گزرے تو حضرت زیاد نے اھلا و سھلا کہا اور قیام کے لیے اپنا مکان پیش کیا تو آنحضور صلی یم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو۔یہ خود منزل تلاش کرلے گی۔محرم نو ہجری میں آپ صلی الم نے صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے الگ الگ محصلین مقرر فرمائے تو حضرت زیاد کو حضر موت کے علاقے کا محصل مقرر فرمایا۔حضرت عمرؓ کے دور تک آپ اسی خدمت پر مامور رہے۔اس منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ نے کوفہ میں سکونت اختیار کر لی اور وہیں اکتالیس ہجری میں وفات پائی۔672 پھر حضرت مہاجر کی نجران کی طرف روانگی کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کے تشکیل کردہ گیارہ لشکروں میں سے سب سے آخر میں حضرت مہاجر بن ابو امیہ کا لشکر مدینہ سے یمن کے لیے روانہ ہوا۔یمن کے ساتھ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کا ایک دستہ بھی تھا۔یہ لشکر مکہ مکرمہ سے گزرا