اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 276
ناب بدر جلد 2 276 حضرت ابو بکر صدیق الله سة کے لیے تیار ہو چکے تھے۔انہوں نے ہم سے خط کے ذریعہ مدد کا وعدہ کیا۔ہم نے جواب میں لکھا کہ جب تک ہم آخری فیصلہ کر کے ان کو جواب نہ دیں وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کریں کیونکہ رسول اللہ صلی علیکم کے پیغام کے موصول ہونے کی وجہ سے آئسود کے خلاف کارروائی کرناضروری ہو گیا تھا۔اسی طرح رسول صلی تعلیم نے نجران کے تمام باشندوں کو اسود کے معاملہ کے متعلق لکھا تھا۔انہوں نے آپ کی بات مان لی۔جب یہ اطلاع اسود تک پہنچی تو اسے اپنی ہلاکت نظر آنے لگی۔جِشْنَس دَيْلَمی کہتے ہیں کہ مجھے ایک ترکیب سو جھی۔میں آسود کی بیوی آزاد کے پاس گیا جو شَهْرِ بن بَاذَان کی بیوہ تھی اور اس سے آسود نے شہر بن باذان کو قتل کرنے کے بعد شادی کر لی تھی۔میں نے اسے اسود کے ہاتھوں اس کے پہلے خاوند حضرت شهرِ بنِ باذان کی شہادت، اس کے خاندان کے دیگر افراد کی ہلاکت اور خاندان کو پہنچنے والی ذلت اور مظالم یاد دلائے اور اسے اَسود کے خلاف اپنی مدد کے لیے کہا تو وہ بڑی خوشی سے تیار ہو گئی اور اس نے کہا کہ بخدا! میں آسود کو اللہ کی تمام مخلوق میں سب سے بڑا جھتی ہوں۔یہ اللہ کے کسی حق کا احترام نہیں کرتا اور نہ اللہ کی کسی حرام کردہ شے سے اجتناب کرتا ہے۔پس جب تمہارا ارادہ ہو مجھے مطلع کرنا۔میں اس معاملہ کی تدبیر کروں گی اور آخر کار ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اسود عنسی کی اسی بیوی کی تائید کے ساتھ اسود عنسی کو ایک رات اس کے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا گیا اور جب صبح ہوئی تو قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر اس امتیازی نشان کے ساتھ آواز لگائی گئی کہ مرتد باغی اسود اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے تو مسلمان اور کافر قلعہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔پھر انہوں نے صبح کی اذان دی اور کہا اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی علیم اللہ کے رسول ہیں۔أسود عنسی جھوٹا ہے پھر اس کا سر ان لوگوں کے سامنے پھینک دیا۔اس طرح یہ فتنہ تین ماہ تک اور ایک قول کے مطابق چار ماہ کے قریب بھڑک کر ٹھنڈا ہو گیا اور تمام عمال اور امراء وغیرہ اپنے اپنے علاقوں میں حسبِ معمول مصروف عمل ہو گئے اور حضرت معاذ بن جبل ان لوگوں کی امامت کراتے تھے۔اسود عنسی کے قتل، اس کی فوج کی شکست اور اس کے فتنے کے اختتام کی خبر آنحضرت صلی علیہ علم کو جب بھیجی گئی تو اس سے پہلے آپ کا وصال ہو چکا تھا۔یہ بھی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی الی کم کو وصال سے قبل اسود عنسی نے قتل کی خبر بذریعہ وحی اسی رات دے دی تھی جس رات وہ قتل ہو اتھا۔چنانچہ آپ نے اگلی صبح اس کی اطلاع صحابہ کو بھی دے دی اور یہ بھی بتا دیا کہ اسے فیروز نے قتل کیا ہے۔حضرت ابو بکر کو خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد ملنے والی سب سے پہلی خوش خبری اسود عنسی کے قتل کی خبر تھی۔اسود کے قتل کی خبر جس رات رسول اللہ صلی علیم کو پہنچی اس کی صبح کو آپ کا وصال ہو گیا اور ایک روایت کے مطابق جب آسود کے قتل کی خبر لانے والا مدینہ آیا تو اس وقت آنحضرت صلی علی کیم کو دفن کیا جا رہا تھا اور ایک روایت یہ ہے کہ اسود کے قتل کی خبر آنحضرت صلی اللہ کم کی وفات کے دس بارہ دن بعد مدینہ پہنچی جب حضرت ابو بکر خلیفہ منتخب ہو چکے تھے۔اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں لیکن بہر حال یہ انہی دنوں کی، آٹھ دس دن پہلے یا بعد کی بات ہے۔اسود کے قتل کے بعد صنعاء میں پہلے کی طرح مسلمانوں کی حکومت