اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 262
محاب بدر جلد 2 262 حضرت ابو بکر صدیق حضرت علاء نے حضرت ابو بکر کو ایک خط لکھا تھا جو یہ ہے کہ انا بعد اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وادی دھنا میں پانی کا ایک چشمہ جاری کر دیا تھا۔اس واقعہ کے بعد جب حضرت ابو بکر کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے یہ خط لکھا حالانکہ وہاں چشمہ کے کوئی آثار نہ تھے اور سخت تکلیف اور پریشانی کے بعد ہم کو اپنا ایک معجزہ دکھایا۔حضرت علاء نے حضرت ابو بکر کو خط لکھا۔اور پریشانی کے بعد ہم کو اپنا ایک معجزہ دکھایا جو ہم سب کے لیے نصیحت کا باعث ہے اور یہ اس لیے کہ اس کی حمد و ثنا کریں۔لہذا اللہ کی جناب میں دعا مانگئے اور اس کے دین کے مدد گاروں کے لیے نصرت طلب کیجیے۔حضرت علا پانی ملنے کے بعد ، واقعہ ہونے کے بعد حضرت ابو بکر کو یہ رپورٹ بھیجوا رہے ہیں۔حضرت ابو بکر نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔اس سے دعا مانگی اور کہا کہ عرب ہمیشہ سے وادئی دھنا کے متعلق یہ بات بیان کرتے آئے ہیں کہ حضرت لقمان سے جب اس وادی کے لیے پوچھا گیا کہ آپا پانی کے لیے اسے کھودا جائے یا نہیں تو انہوں نے اسے کھودنے کی ممانعت کی اور کہا کہ یہاں سبھی پانی نہیں نکلے گا تو اس وجہ سے اس وادی میں چشمہ کا جاری ہو جانا اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے جس کا حال ہم نے پہلے کسی قوم میں نہیں سنا تھا۔631 تو اس طرح کے معجزات بھی صحابہ کے ساتھ ہوتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر مہمات پر نکلتے تھے۔632 حضرت علاء نے حضرت جاروڈ کو حکم بھیجا کہ تم قبیلہ عبد القیس کو لے کر حکم کے مقابلے کے لیے ھجر سے ملحق علاقے میں جاکر پڑاؤ کرو اور حضرت علاء اپنی فوج کے ساتھ محکم کے مقابلے پر اس علاقے میں آئے۔اہل دارین کے علاوہ تمام مشرکین عظم کے پاس جمع ہو گئے۔اس طرح تمام مسلمان حضرت علاء بن حضرمی کے پاس جمع ہو گئے۔دونوں نے اپنے اپنے آگے خندق کھود لی۔وہ روزانہ اپنی خندق عبور کر کے دشمن پر حملہ کرتے اور لڑائی کے بعد پھر خندق کے پیچھے ہٹ آتے۔ایک مہینے تک جنگ کی یہی کیفیت رہی۔اسی اثنا میں ایک رات مسلمانوں کو دشمن کے پڑاؤ سے زبر دست شور و غوغا سنائی دیا۔حضرت علاء نے کہا کوئی ہے جو دشمن کی اصل حالت کی خبر لائے ؟ حضرت عبد اللہ بن حذف نے کہا میں اس کام کے لیے جاتا ہوں اور انہوں نے واپس آکر یہ اطلاع دی کہ ہمارا حریف نشہ میں مدہوش ہے اور نشہ میں دھت واہی تباہی بک رہا ہے۔یہ سارا شور اس کا ہے۔جب یہ سنا تو مسلمانوں نے فوراً دشمن پر حملہ کر دیا اور اس کے پڑاؤ میں گھس کر ان کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتار نا شروع کیا۔وہ اپنی خندق کی طرف بھاگ گئے۔کئی اس میں گر کر ہلاک ہو گئے، کئی بچ گئے۔کئی خوفزدہ ہو گئے۔بعض قتل کر دیے گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔مسلمانوں نے ان کے پڑاؤ کی ہر چیز پر قبضہ کر لیا۔جو شخص بیچ کر بھاگ سکا وہ صرف اس چیز کو لے جاسکا جو اس کے جسم پر تھی۔البتہ انجز جان بچا کر بھاگ گیا۔عظم کی خوف و دہشت سے یہ کیفیت تھی کہ گویا اس کے جسم میں جان ہی نہیں۔وہ اپنے گی پنے گھوڑے کی طرف بڑھا جبکہ مسلمان مشرکین کے وسط میں آچکے تھے۔اپنی بدحو اسی میں لم خود مسلمانوں میں سے فرار ہو کر اپنے گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے جانے لگا۔جیسے ہی اس نے