اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 256

حاب بدر جلد 2 256 حضرت ابو بکر صدیق بھی تھے اور عرب کی تجارت پر فارسیوں کا غلبہ تھا۔ان علاقوں میں تاجروں کی ایک جماعت بھی مقیم تھی جو ہندوستان اور ایران سے آئے ہوئے تھے اور دریائے فرات کے دہانے سے عدن کے ساحلی علاقے تک کے درمیانی خطہ میں آباد ہو گئے تھے۔ان تاجروں نے یہاں کے مقامی باشندوں سے سلسلہ 618 ازدواج بھی قائم کر لیا تھا اور ان سے جو نسل پیدا ہوئی تھی اسے ابناء کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ساحلی شہروں کے عقب میں تین بڑے قبیلے اور ان کی بہت سی شاخیں آباد تھیں۔ایک بگر بن وائل، دوسر اعبد القیس اور تیسر اربیعہ۔ان کے بہت سے خاندان عیسائی تھے۔گھوڑے اونٹ اور بکریاں پالنا اور ر کھجوروں کے باغ لگانا ان کا خاص پیشہ تھا۔ان قبائل کے ناظم الامور وہ مقامی لیڈر ہوا کرتے تھے جن کو حکومت حیرہ کا اعتماد حاصل ہو تا تھا۔ان میں ایک مُنذر بن ساوی تھا وہ بحرین کے ضلع حجر میں رہتا تھا اور ھجر کے آس پاس قبیلہ عبد القیس پر اُس کی حکومت تھی۔الله سة 619 قبیلہ عبد القیس کے دو و فد رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ایک وفد پانچ ہجری میں رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس میں تیرہ یا چودہ افراد شامل تھے اور قبیلہ عبد القیس کا دوسر اوفد عالم الوفود یعنی نو ہجری میں دوبارہ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جس میں جارُ وُد سمیت چالیس افراد شامل تھے۔جاڑ ؤ د نصرانی تھا جو یہاں آکر مسلمان ہو گیا۔620 ایک قول کے مطابق اس وفد نے نبی کریم ملی ایم کے پاس آنے سے قبل ہی اسلام قبول کیا ہوا تھا۔621 622 ھجر کے فارسیوں ، عیسائیوں اور یہودیوں نے نہایت ناگواری سے جزیہ دینا منظور کر لیا تھا۔بحرین کی باقی بستیاں اور شہر غیر مسلم رہے لیکن یہ لوگ جب بھی موقع ملتا و قتافوقتا بغاوت کرتے رہتے تھے۔منذر بن ساوی کے اسلام قبول کرنے پر رسول اللہ صلی علیم نے اسے بدستور بحرین کا حاکم مقرر کیے رکھا۔اسلام لانے کے بعد اس نے اپنی قوم کو بھی دین حق کی دعوت دینی شروع کی اور جار و دبن معلی کو دین کی تربیت حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں روانہ کیا۔جاروڈ نے مدینہ پہنچ کر اسلامی تعلیمات اور احکام سے واقفیت حاصل کی اور اپنی قوم میں واپس جاکر لوگوں کو دین کی تبلیغ کرنے اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کا کام شروع کر دیا۔رسول اللہ صلی علیم کی وفات یعنی گیارہ ہجری کے چند دن بعد منذر کا انتقال ہو گیا۔اس پر عرب اور غیر عرب سب نے بغاوت کا اعلان کر دیا۔قبیلہ عبد القیس نے کہا کہ اگر محمد علی میں کم ہی ہوتے تو وہ کبھی نہ مرتے اور سب مرتد ہو گئے۔اس کی اطلاع حضرت جاروڈ کو ہوئی۔حضرت جاروڈ اپنی قوم کے اشراف میں سے تھے ، جو تربیت حاصل کرنے مدینہ گئے تھے اور ان میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کی طرف ہجرت کی اور ایک اچھے خطیب 623 حضرت جاروڈ نے اس بات پر ان سب لوگوں کو جمع کیا جو مرتد ہو گئے تھے کہ آنحضرت صلی الیم