اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 250
اصحاب بدر جلد 2 250 حضرت ابو بکر صدیق گواہی دیتا ہوں کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔رسول اللہ صلی علیکم حضرت خالد کے اسلام لانے پر بہت خوش ہوئے۔اسلام لانے کے بعد حضرت خالد چھپ گئے۔جب ان کے باپ کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو اس نے اپنے باقی بیٹوں کو جو اسلام نہیں لائے ہوئے تھے حضرت خالد کی تلاش میں بھیجا۔چنانچہ انہوں نے آپ کو تلاش کیا اور انہیں اپنے باپ کے پاس لائے۔ان کا باپ حضرت خالد کو برا بھلا کہنے لگا اور مارنے لگا اور وہ سوٹا جو اس کے ہاتھ میں تھا اس کے ساتھ مارنا شروع کیا یہاں تک کہ ان کے سر پر مار مار کر توڑ دیا اور کہنے لگا کہ تم نے محمد (صلی املی کم) کی پیروی کرلی ہے حالانکہ تم اس کی قوم کی اس کے ساتھ مخالفت کو دیکھ رہے ہو اور اس کو بھی جو وہ ان لوگوں کے معبودوں کی برائیاں بیان کرتے ہیں اور ان لوگوں کے آباؤ اجداد کی برائیاں بھی۔حضرت خالد نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں آپ صلی الی یکم کی اتباع کر چکا ہوں۔اس پر ان کا باپ سخت غصہ ہوا اور ان کو کہا کہ اے بیوقوف! میری نظروں سے دُور ہو جاؤ اور جہاں چاہو چلے جاؤ میں تمہارا کھانا بند کر دوں گا۔اس پر حضرت خالد نے کہا کہ اگر آپ میرا کھانا بند کر دیں گے تو اللہ میرے زندہ رہنے کے لیے مجھے رزق عطا فرمائے گا۔چنانچہ آپ کے والد نے انہیں گھر سے نکال دیا اور اپنے بیٹوں سے کہہ دیا کہ ان میں سے کوئی اس سے بات نہیں کرے گا۔چنانچہ حضرت خالد وہاں سے نکلے اور رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ ہی رہنے لگے۔عمومی طور پر اپنے باپ سے چھپ کر مکہ کے نواح میں رہتے تھے کہ کہیں دوبارہ نہ پکڑلے اور پھر سختی نہ کرے۔حضرت خالد کا باپ مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کرنے والا تھا اور مکہ کے معززین میں سے تھا۔ایک مر تبہ وہ بیمار ہوا تو مرض کی شدت کی وجہ سے اس نے کہا کہ اگر اللہ نے مجھے اس بیماری سے شفا دے دی۔پتا نہیں اللہ کہا تھا یا اپنے معبودوں کا نام لیا تھا۔بہر حال اس نے کہا کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہو گئی تو پھر ابن ابی کبشہ یعنی محمد صلی ا یکم کے خدا کی عبادت مکہ میں نہیں ہو گی۔میں ایسی سختی کروں گا کہ یہاں سے سب مسلمانوں کو نکال دوں گا۔جب حضرت خالد کو معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے باپ کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ ! اس کو شفانہ دینا۔چنانچہ وہ اسی بیماری میں مر گیا۔جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی تو حضرت خالد بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔ان کے ساتھ ان کی بیوی اُمیمه بنت خالد خُزاعیہ بھی تھی۔حضرت خالد کے ایک اور بھائی حضرت عمر و بن سعید نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی۔حضرت خالد غزوہ خیبر کے زمانہ میں حبشہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ نبی کریم صلی الی یم کی خدمت میں پہنچے۔غزوہ خیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے لیکن آنحضرت صلی ا ہم نے مال غنیمت میں ان کو بھی حصہ دیا۔اس کے بعد عمرۃ القضاء، فتح مکہ ، غزوہ حنین، طائف اور تبوک وغیرہ سب میں آنحضرت صلی علیم کے ہم رکاب رہے۔آپ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے اس محرومی پر ہمیشہ متأسف رہے۔آنحضرت الله 602