اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 247

اصحاب بدر جلد 2 247 حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد بن ولید کے پاس پہنچے اور تمام حالات و واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت شر خبیل کو سرزنش کی۔حضرت خالد کا یہ خیال تھا کہ اگر دشمن سے ٹکر لینے کی پوری طاقت نہ ہو تو بے شک اس وقت تک اس کے مقابلے سے گریز کیا جائے جب تک کہ مطلوبہ طاقت میسر نہ ہو جائے۔بجائے اس کے کہ طاقت نہ ہونے کے باوجود دشمن سے جنگ چھیڑی جائے اور اس کے نتیجہ میں شکست کھانی پڑے۔589 بہر حال پھر بعد میں حضرت شر خبیل حضرت خالد بن ولید کے ساتھ جنگ میں شریک رہے۔حضرت خالد بن ولید نے حضرت شر خبیل کو مقدمہ الجیش پر نگران مقرر کیا یعنی فوج کا جو اگلا حصہ تھا اس کا نگران انہیں بنایا اور میمنہ اور میسرہ دائیں اور بائیں پر زید بن خطاب اور ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کو مقرر فرمایا۔10 590 یمامہ کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے ارشاد کے مطابق حضرت ر خبیل بنو قضاعہ کے باغیوں کی خبر لینے کے لیے حضرت عمرو بن عاص سے جاملے۔چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت شر خبیل اور حضرت عمرو بن عاص قضاعہ کے مرتد باغیوں پر حملہ کرنے لگے۔حضرت عمرو بن عاص نے قبیلہ سعد اور بلق پر چڑھائی کی اور حضرت شر خبیل نے قبیلہ کلب اور اس کے تابع قبائل پر چڑھائی کی۔591 حضرت عمرو بن عاص کی مہم 593 چھٹی مہم جو ہے یہ حضرت عمرو بن عاص کی مرتد باغیوں کے خلاف مہم تھی۔حضرت ابو بکر نے ایک جھنڈا حضرت عمرو بن عاص کو دیا تھا اور ان کو تین قبائل قضاعہ ، ودیعہ اور حارث کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا تھا۔592 قضاعہ بھی ء 59 قضاعہ بھی عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے جو مدینہ سے دس منزل پر وادی القریٰ سے آگے مدائن صالح کے مغرب میں آباد ہے۔حضرت عمرو بن عاص کا بھی مختصر تعارف یہ ہے کہ آپ کا نام عمر و اور کنیت عبد اللہ بن ابو عبد اللہ یا بعض کے نزدیک ابو محمد تھی۔آپ کے والد کا نام عاص بن وائل، آپ کی والدہ کا نام نابغہ بنت حرملہ تھا۔ایک روایت کے مطابق آپ کی والدہ کا اصل نام سلمی تھا۔نابغہ ان کا لقب تھا۔حضرت عمرو بن عاص نے آٹھ ہجری میں فتح مکہ سے چھ ماہ پہلے اسلام قبول کیا۔رسول اللہ صلی علیہم نے آٹھ ہجری میں آپ کو عثمان کا عامل مقرر فرمایا اور آپ رسول اللہ صلی علیکم کی وفات تک اسی منصب پر رہے۔اس کے بعد آپ شام کی فتوحات میں شامل ہوئے اور حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں فلسطین کے حاکم رہے۔ان کے کارناموں میں سے ایک نمایاں کارنامہ مصر کی فتح بھی ہے۔فتح مصر کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کو مصر کا حاکم بنا دیا۔حضرت عثمان کے دور خلافت میں مصر کی حکومت سے معزول ہوئے اور فلسطین میں گوشہ نشینی اختیار کی۔امیر معاویہ نے آپ کو دوبارہ مصر کا حاکم بنایا اور تاوقت وفات آپ اسی خدمت پر متعین ر جاتا ہے کہ آپ کی وفات 143 ہجری میں ہوئی، بعض کے نزدیک 147 ہجری میں ہوئی، بعض 148 کہتے