اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 244

حاب بدر جلد 2 244 حضرت ابو بکر صدیق اس موقع پر اس نے یہ بھی خواہش کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول کریم صلی کی کم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی الم سے درخواست بھی کر دی کہ میری ہمشیرہ جو پہلے ایک رشتہ دار سے بیاہی ہوئی تھی اب بیوہ ہے، نہایت خوبصورت اور لائق ہے ، آپ اس سے شادی کر لیں۔رسول کریم صلی الم کو چونکہ قبائل عرب کا اتحاد منظور تھا آپ نے اس کی یہ دعوت منظور کرلی اور فرمایا ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پر نکاح پڑھ دیا جائے۔اس نے کہا یارسول اللہ ! ہم معزز لوگ ہیں مہر تھوڑا ہے۔آپ نے فرمایا اس سے زیادہ میں نے اپنی کسی بیوی یالڑ کی کا مہر نہیں باندھا۔جب اس نے رضامندی کا اظہار کر دیا تو نکاح پڑھا گیا اور اس نے رسول کریم صلی الم سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر اپنی بیوی منگوا لیجیے۔آپ صلی للی مریم نے ابواسید کو اس کام پر مقرر کیا۔وہ وہاں تشریف لے گئے۔جونیہ نے ان کو اپنے گھر بلایا تو حضرت ابو اسیڈ نے کہا کہ رسول کریم صلی علیکم کی بیویوں پر حجاب نازل ہو چکا ہے۔اس پر اس نے دوسری ہدایات دریافت کیں جو آپ نے بتادیں اور اونٹ پر بٹھا کر مدینہ لے آئے اور ایک مکان میں جس کے گرد کھجوروں کے درخت بھی تھے لا کر اتارا۔اس کے ساتھ اس کی دایہ بھی اس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ جس طرح ہمارے ملک میں بھی امیر لوگ جو ہیں ایک بے تکلف نو کر ساتھ کر دیتے ہیں تاکہ اسے یعنی لڑکی کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔چونکہ یہ عورت حسین مشہور تھی اور یوں بھی عورتوں کو دلہن دیکھنے کا شوق ہوتا ہے ، مدینہ کی عورتیں اس کو دیکھنے گئیں اور اس عورت کے بیان کے مطابق کسی عورت نے اس کو سکھا دیا کہ رعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔جب رسول کریم ملی الی یکم تیرے پاس آئیں تو کہہ دینا کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، اس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہوئی نہیں ہے یعنی جس کی شادی تھی تو کچھ تعجب نہیں کہ اس طرح کا فقرہ کہلوانا کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو، غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول اللہ صلی علیہ کم کو ملی تو آپ اس گھر کی طرف تشریف لے گئے جو اس کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔احادیث میں لکھا ہے کہ ، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی علیکم اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اس سے فرمایا کہ تو اپنا نفس مجھے ہبہ کر دے۔اس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ بھی اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کیا کرتی ہے؟ نعوذ باللہ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کیا۔ابو اسید کہتے ہیں کہ اس پر رسول کریم صلی ا لم نے اس خیال سے کہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرارہی ہے اسے تسلی دینے کے لیے اس پر اپنا ہاتھ رکھا۔آپ نے اپنا ہاتھ ابھی رکھا ہی تھا کہ اس نے یہ نہایت ہی گندا اور نامعقول فقرہ کہہ دیا کہ میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔چونکہ نبی خدا تعالیٰ کا نام سن کر ادب کی روح سے بھر جاتا ہے اور اس کی عظمت کا متوالا ہوتا ہے۔اس کے اس فقرے پر آپ نے فوراً فرمایا کہ تو نے ایک بڑی ہستی کا واسطہ دیا ہے اور اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا پناہ دینے والا ہے اس لیے میں تیری درخواست کو قبول کرتا ہوں۔چنانچہ آپ اسی وقت باہر تشریف لے آئے اور فرمایا کہ اے ابواسید!