اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 242
حاب بدر جلد 2 242 حضرت ابو بکر صدیق ان سب نے اسلام قبول کر لیا۔حضرت عکر مڈ نے اس فتح کی خوشخبری سائب نامی ایک شخص کے ذریعہ 576 حضرت ابو بکر کی خدمت میں پہنچائی۔پھر حضرت عکرمہ کی یمن کی طرف پیش قدمی کا ذکر ہے۔حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے خط میں جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے حضرت عکرمہ کو ہدایت دی تھی کہ مہرہ کے بعد یمن چلے جانا اور یمن اور حضر موت کی کارروائیوں میں حضرت مہاجر بن ابو امیہ کے ساتھ رہنا اور عمان اور یمن کے درمیان جن لوگوں نے ارتداد اختیار کیا ہے ان کی سرکوبی کرنا۔577 چنانچہ حضرت فکر مڈ نے حضرت ابو بکر صدیق کے اس ارشاد کی تکمیل میں مھرہ سے نکل کر یمن کی طرف پیش قدمی کی یہاں تک کہ انین جا پہنچے۔انہیں بھی یمن کی ایک بستی ہے۔ان کے ساتھ ایک بہت بڑا لشکر تھا جس میں قبیلہ مھرہ اور دوسرے قبائل کے بہت سے لوگ شامل تھے۔حضرت عکرمہ نے اپنا مکمل قیام جنوبی یمن میں ہی رکھا اور وہاں نفع اور جمیز کے قبائل کی سرکوبی میں مشغول رہے اور شمالی یمن کی طرف بڑھنے کی نوبت ہی نہ آئی۔حضرت فگر مہ نے قبیلہ ننجح کے مفرور لوگوں کو پکڑ لینے کے بعد اس قبیلے کے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ تم لوگوں کی اسلام کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ جاہلیت کے زمانے میں بھی ہم اہل مذہب تھے ، مذہب سے ہمیں لگاؤ تھا، ہم عرب ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کرتے تھے تو ہمارا اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم اس دین میں داخل ہو جائیں جس کی فضیلت سے ہم واقف ہو چکے ہیں اور اس کی محبت ہمارے دلوں میں داخل ہو چکی ہے ، یعنی اسلام کی محبت ہمارے دلوں میں اب داخل ہو چکی ہے۔حضرت عکرمہ نے جب ان کے بارے میں تحقیقات کیں کہ دل سے یہ کہہ رہے ہیں یا صرف جان بچانے کے لیے تو معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے بیان کیا تھا۔وہ حقیقت میں صحیح بیان دے رہے تھے۔ان کے عوام بدستور اسلام پر ثابت قدم رہے البتہ ان کے خواص میں سے جو مرتد ہو گئے تھے وہ بھاگ گئے۔اس طرح حضرت عکرمہ نے نجع اور جمیز قبائل کو ارتداد کے الزام سے بری قرار دیا اور وہ ان کو جمع کرنے کے لیے وہیں مقیم رہے۔578 آئین میں حضرت عکرمہ کی اقامت سے اسود عنسی کی باقی ماندہ جماعت پر گہرا اثر پڑا جس کی قیادت قیس بن مکشوح اور عمرو بن معدی گرپ کر رہے تھے۔صنعا سے بھاگنے کے بعد قیس صنعا کے مابین چکر کاتا رہا اور عمرو بن معدی گرپ ، اسود عنسی کی تحج میں موجود پارٹی میں شامل ہوا تھا لیکن جب حضرت عکرمہ آئین پہنچے تو دونوں یعنی قیس اور عمرو بن معدی گرب آپ سے قتال کے لیے اکٹھے ہو گئے، جنگ کے لیے تیار ہو گئے، لیکن جلد ہی دونوں میں اختلاف ہوا اور ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔اس طرح حضرت عکرمہ کے مشرق کی طرف سے آنے نے سنج میں موجود مرتدین کی جماعتوں کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کیا۔579