اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 218

اصحاب بدر جلد 2 218 حضرت ابو بکر صدیق ماعہ کے گروہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خالد یمامہ کی طرف چلے۔ان کے آنے کی خبر پا کر مسیلمہ اپنے قبیلہ بنو حنیفہ کے ساتھ مقابلہ کے لیے نکلا اور عقرباء میں آکر پڑاؤ ڈالا۔یہ مقام بھی یمامہ کی سرحد پر یمامہ کے کھیتوں اور سر سبز علاقے کے سامنے واقع تھا۔خالد نے محکم منصوبہ بندی کا اہتمام کیا۔آپ دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھتے تھے۔میدانِ معرکہ میں ہمیشہ پوری پوری تیاری اور مکمل احتیاط کے ساتھ رہتے کہ کہیں اچانک دشمن حملہ نہ کر دے اور کوئی سازش نہ کر بیٹھے۔آپ کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ آپ خود سوتے نہیں تھے ، دوسروں کو سلاتے تھے۔پوری تیاری کے ساتھ رات گزارتے۔آپ پر دشمن کی کوئی بات مخفی نہیں رہتی تھی۔فوج کو مرتب کرنے کا وقت قریب آچکا تھا۔اس معرکے میں علمبر دار حضرت عبد اللہ بن حفص بن غانم تھے۔پھر یہ حضرت سالم مولی ابو حذیفہ کو منتقل ہو گیا۔حضرت خالد نے اس معرکے میں حضرت شر خبیل بن حَسَنه و آگے بڑھایا اور اسلامی فوج کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا۔مقدمہ پر حضرت خالد مخزومی، میمنہ پر حضرت ابوحذیفہ، میسرہ پر حضرت شجاع اور قلب پر حضرت زید بن خطاب اور شاہسواروں پر اسامہ بن زید کو مقرر فرمایا اور اونٹوں کو پیچھے رکھا جن پر خیمے لدے ہوئے تھے اور خواتین سوار تھیں اور یہ معرکہ سے قبل آخری ترتیب تھی۔38 دوسری طرف مسیلمہ کذاب کی فوج بھی تیار کھڑی تھی اور مسیلمہ کے بیٹے شر خبیل نے اپنے قبیلے سے کہا اے بنو حنیفہ ! آج کا دن غیرت دکھانے کا ہے۔اگر آج تم نے شکست کھائی تو تمہاری عورتیں لونڈیاں بنالی جائیں گی اور بغیر نکاح کے ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔لہذا آج تم اپنی عزت اور آبرو کی حفاظت کے لیے پوری جوانمردی دکھاؤ اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرو۔539 538 بہر حال اس کے بعد گھمسان کی جنگ ہوئی۔وہ جنگ ایسی سخت تھی کہ مسلمانوں کو اس سے پہلے ایسی جنگ کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔مسلمان پسپا ہو گئے۔یہاں بھی پسپائی ہوئی اور بنو حنیفہ کے افراد مُجاعَہ کو چھڑانے کے لیے آگے بڑھے اور حضرت خالد کے خیمہ کا قصد کیا۔حضرت خالد خیمہ چھوڑ چکے تھے اس لیے وہ مُجاعَہ تک پہنچ گئے جو حضرت خالد کی بیوی کی نگرانی میں تھا۔مرتدوں نے آپ کی بیونی کو قتل کرنا چاہا مگر مُجاعَہ نے ان کو روک دیا اور کہا کہ میں اس کو پناہ دیتا ہوں۔لہذا انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔مُجاعَہ نے کہا کہ تم مردوں پر حملہ کرو۔ایک طرف تو یہ دعویٰ تھا کہ میں مسلمان ہوں اور اب یہ ان مخالفین کو کہہ رہا ہے کہ تم مردوں پر حملہ کرو اور انہوں نے خیمے کو کاٹ دیا۔540 جنگ یمامہ میں مسلمانوں کی قابل رشک بہادری اور ثابت قدمی لشکر اسلام کے پیچھے ہٹنے کے باوجود حضرت خالد بن ولیڈ کے عزم و ثبات اور جرآت و استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی شکست کا خیال پیدا نہ ہوا۔حضرت خالد نے پکار کر اپنے لشکر سے کہا کہ اے مسلمانو! علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ یعنی ہر قبیلہ الگ الگ ہو کر لڑے اور