اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 9

اصحاب بدر جلد 2 9 حضرت ابو بکر صدیق مرض الموت کے دوران آنحضور صلی الم نے فرمایا: اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہو تا تو ضرور حضرت ابو بکر کو ہی خلیل بناتا لیکن اسلام کی دوستی سب سے افضل ہے۔اس مسجد میں تمام کھڑکیوں کو میری طرف سے بند کر دو سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے۔33 ہمارے ریسرچ سیل نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے اور سوال ان کا ٹھیک ہے کہ اس روایت سے صرف یہ ثابت ہو تا ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ تم اپنا خلیل کسی کو بناتے تو حضرت ابو بکر کو بناتے لیکن بنایا نہیں۔اس بات کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی ایک جگہ فرما دی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی علیم کے اس قول کہ اگر میں کسی کو دنیا میں خلیل بناتا تو حضرت ابو بکر کو بناتا کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ جملہ بھی قابل تشریح ہے۔حضرت ابو بکر کو آپ دوست تو رکھتے تھے۔پھر اس کا کیا مطلب؟ بات اصل میں یہ ہے کہ خُلت اور دوستی تو وہ ہوتی ہے جو رگ و ریشہ میں دھنس جائے۔وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ اور اس کے لئے مخصوص ہے۔دوسروں کے ساتھ محض اخوت اور برادری ہے۔خُلّت کا مفہوم ہی یہی ہے کہ وہ اندر دھنس جاوے“ یعنی محلت کی اعلیٰ قسم کی جو پہچان ہے وہ یہ ہے۔اعلیٰ مقام ہے ” جیسے یوسف زلیخا کے اندر رچ گیا تھا۔بس یہی معنے آنحضرت صلی لی ایم کے اس پاک فقرہ کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تو کوئی شریک نہیں۔دنیا میں اگر کسی کو دوست رکھتا تو ابو بکر ھور کھتا۔" اللہ تعالیٰ کا تو ایک مقام ہے اس جیسا مقام کسی کو نہیں مل سکتا لیکن بہر حال جو دنیا کی دوستی ہے اس میں اگر کوئی دوستی ہے تو ابو بکر کی۔یعنی دوستی تو تھی لیکن اللہ تعالیٰ سے دوستی کے مقابلے میں نہیں کہا جا سکتا تھا کہ دوستی ہے۔دنیا کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ جیسی دوستی کرنا ایک نبی کے لئے اور خاص طور پر آنحضرت صلی الم کے لئے تو ممکن ہی نہیں تھا یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اگر کوئی بات دنیاداری کے لحاظ سے ممکن تھی تو پھر آپ نے فرمایا کہ اس مقام کے سب سے زیادہ حق دار ابو بکر ہیں۔34" کنیت ابو بکر کی وجہ تسمیہ آپ کی کنیت کیا تھی؟ حضرت ابو بکر کی کنیت ابو بکر تھی اور اس کی ایک سے زائد وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔بعض کے نزدیک بکر جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔چونکہ آپ کو اونٹوں کی پرورش اور غور و پرداخت میں بہت دلچسپی اور مہارت تھی اس لیے لوگوں نے آپ کو ابو بکر کہنا شروع کر دیا۔بکر کا ایک معنی جلدی کرنا بھی ہے۔پہل کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔بعض کے بقول یہ کنیت اس لیے پڑی کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے۔إِنَّهُ بَكَرَ اِلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ غَيْرِہ۔انہوں نے دوسروں سے پہلے اسلام کی طرف پیش قدمی کی۔35 علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ ان کو پاکیزہ خصلتوں میں ابتکار یعنی پیش پیش ہونے کی وجہ سے ابو بکر کہا جاتا تھا۔36