اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 211
اصحاب بدر جلد 2 211 حضرت ابو بکر صدیق بنت حارث کے گھر ٹھہرا۔519 الناس جب رسول کریم صلی اللہ نام کی بیعت کرنے کے لیے متواتر وفود آئے تو آنحضور صلی ا ہم نے مدینہ میں ایک گھر مقرر کر لیا تھا جہاں وفود ٹھہرتے تھے۔یہ گھر رملہ بنت حارث کا تھا جو بنو نجار کی ایک خاتون کھیں۔یہ ایک بہت وسیع مکان تھا۔520 جب بنو حنیفہ کے یہ لوگ رسول کریم صلی یکی کم سے ملاقات کے لیے گئے تو مسیلمہ کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے۔اسے اپنے سامان کی حفاظت کی خاطر پیچھے چھوڑ گئے۔جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے مسیلمہ کے بارے میں ذکر کیا اور کہا یارسول اللہ ! ہم اپنے ایک ساتھی کو پیچھے اپنے سامان اور سواریوں کے پاس چھوڑ آئے ہیں۔وہ ہمارے لیے ہمارے سامان کی حفاظت کر رہا ہے تو رسول اللہ صلی علیکم نے مسیلمہ کے لیے بھی اسی قدر تحائف کا حکم دیا جس قدر لوگوں کو دینے کا ارشاد فرمایا تھا اور فرمایا: وہ مرتبہ میں تم سے کم تر نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں کے سامان کی حفاظت کر رہا ہے۔پھر وہ وفد رسول اللہ صلی الی یکم کے پاس سے چلا گیا اور جو آپ صلی علیہ ہم نے مسیلمہ کے لیے دیا تھاوہ بھی لے گئے۔521 اس بیان کردہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ کے علاوہ بنو حنیفہ کے وفد میں موجود تمام افراد کی رسول کریم صلی ال یکم سے ملاقات ہوئی تھی مگر بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں جن میں مسیلمہ کی رسول کریم صلی علیم سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔عموماً اسی بارے میں روایات ہیں کہ مسیلمہ ملا۔اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے جب دوسری دفعہ آیا ہو تب ملا ہو۔بہر حال اس کی تفصیل میں مزید لکھا ہے کہ جب یہ وفد رسول کریم صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس میں مسیلمہ بھی موجود تھا جو دوسری جگہ لکھا ہے۔وہ لوگ مسیلمہ کو رسول اللہ صلی اللی کمک کے پاس اس حالت میں لائے کہ اس کو کپڑوں سے ڈھانپا گیا تھا۔حضور صلی اللہ ظلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے۔آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی۔مسیلمہ نے آپ سے گفتگو کی اور کچھ مطالبات کیے۔آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ کھجور کی الله سة سة شاخ بھی مانگے جو میرے ہاتھ میں ہے تو میں وہ بھی تجھے نہیں دوں گا۔522 حیح بخاری میں موجود روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیلمہ رسول کریم صلی الیہ کمی سے ملاقات کے لیے نہیں گیا تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ ہم خود اس کے پاس تشریف لے گئے تھے۔چنانچہ عبید اللہ بن الله سة عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور حارث کی بیٹی کے میں اترا اور حارث بن گریز کی بیٹی اس کی بیوی تھی اور وہ عبد اللہ بن عامر کی ماں تھی۔رسول اللہ صلی علیم اس کے پاس آئے اور آپ صلی الیکم کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس تھے اور یہ رسول اللہ صلی علیکم کے خطیب کہلاتے تھے اور رسول اللہ صلی علیہ نام کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔آپ مسیلمہ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس سے گفتگو کی۔مسیلمہ نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ہمارے درمیان اور اس معاملے کے درمیان ہمیں چھوڑ دیں۔پھر آپ اسے اپنے بعد ہمارے لیے مقرر کر دیں۔یعنی نبوت کا جو