اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 202

حاب بدر جلد 2 202 حضرت ابو بکر صدیق لیا اور مسیلمہ کے ساتھ اس کے کیمپ میں چلی گئی۔تین روز تک وہاں رہنے کے بعد یہ اپنے لشکر میں واپس آئی اور ساتھیوں سے ذکر کیا کہ اس نے مسیلمہ کو حق پر پایا ہے اس لیے اس سے شادی کر لی ہے۔لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کچھ مہر بھی مقرر کیا۔اس نے کہا مہر تو مقرر نہیں کیا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ واپس جائیں اور مہر مقرر کر کے آئیں کیونکہ آپ جیسی شخصیت کے لیے مہر کے بغیر شادی کر نازیبا نہیں۔چنانچہ وہ مسیلمہ کے پاس واپس گئی اور اسے مہر کے بارے میں اپنی آمد کے مقصد سے آگاہ کیا۔مسیلمہ نے اس کی خاطر عشاء اور فجر کی نمازوں میں تخفیف کر دی۔یعنی کہ عشاء اور فجر کی نمازوں میں کمی کر دی اور وہ بند کر دیں۔بہر حال مہر کے بارے میں یہ تصفیہ ہوا کہ مسیلمہ یمامہ کی زمینوں کے لگان کی نصف آمد سجاخ کو بھیجے گا۔سجاخ نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ سال کی نصف آمدنی میں سے اس کا حصہ پہلے ہی ادا کر دے۔اس پر مسیلمہ نے نصف سال کی آمدنی کا حصہ اسے دے دیا جسے لے کر وہ جزیرہ واپس آگئی۔بقیہ نصف سال کی آمدنی کے حصول کے لیے اس نے اپنے کچھ آدمیوں کو بنو حنیفہ ہی میں چھوڑ دیا۔سجاح بنت حارث کا قبول اسلام سجاخ بدستور بنو تغلب میں مقیم رہی۔اس کے بارے میں یہ بھی آتا ہے کہ بعد میں اس نے توبہ کر لی اور اسلام قبول کر لیا۔بعض کے نزدیک حضرت عمرؓ کے زمانے میں اس نے اسلام قبول کیا یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہ نے قحط والے سال اسے اس کی قوم کے ساتھ بنو تمیم میں بھیج دیا جہاں وہ وفات تک مسلمان ہونے کی حالت میں مقیم رہی۔مالک بن نویرہ کا قتل 498 حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا تھا کہ طلیحہ اسدی کے معاملے سے فارغ ہو کر مالک بن نویرہ کے مقابلے کے لیے جائیں جو بکاخ میں ٹھہر اہو ا تھا۔499 حضرت خالد جب بطاح آئے تو انہوں نے وہاں کسی کو بھی نہیں پایا۔البتہ انہوں نے دیکھا کہ مالک کو جب اسے اپنے معاملہ میں تردد ہوا تو اس نے اپنے تمام ساتھیوں کو ان کی جائیداد کی دیکھ بھال کے لیے بھیج دیا اور اکٹھا ہونے کی ممانعت کی ہے۔پہلے اس عورت سے علیحد گی بھی ہو چکی تھی یا شاید اس وجہ سے بھی اس میں خیال پید ا ہوا کہ مقابلہ مشکل ہے۔بہر حال حضرت خالد نے مختلف فوجی دستے ادھر ادھر روانہ کیے اور ان کو ہدایت کی کہ جہاں پہنچیں وہاں پہلے اسلام کی دعوت دیں جو اس کا جواب نہ دے اسے گرفتار کر لائیں اور جو مقابلہ کرے اسے قتل کر دیں۔انہی دستوں میں سے ایک دستہ مالک بن نویرہ کو جس کے ساتھ بنو ثعلبہ بن یربوع کے چند آدمی ،عاصم، عبید ، عَرِین اور جعفر تھے گرفتار کر کے خالد کے پاس ان کو لایا گیا۔اس دستے کے لوگوں میں جن میں حضرت ابو قتادہ بھی تھے ان کا اختلاف ہو گیا۔یہاں ایک روایت عروہ کے باپ سے ہے کہ اس موقع پر مہم کے بعد لوگوں نے تو شہادتیں دیں کہ جب ہم