اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 195
اصحاب بدر جلد 2 195 حضرت ابو بکر صدیق تاریخ طبری کی ایک روایت میں ہے کہ اہل بُرائحہ کی شکست کے بعد بنو عامر آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم دین میں داخل ہوتے ہیں جس سے ہم نکل گئے تھے۔حضرت خالد نے ان سے اس شرط پر بیعت لی جو آپ نے اہل بزا حه یعنی اسد ، غطفان اور کلے سے لی تھی اور ان سب نے اسلام قبول کرنے کی شرط پر اطاعت قبول کر لی۔اس بیعت کے الفاظ یہ تھے۔تم سے اللہ تعالیٰ کا عہد و پیمان لیا جاتا ہے کہ تم ضرور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی علیہ تم پر ایمان لاؤ گے اور ضرور نماز کو قائم کرو گے اور ضرور زکوۃ ادا کرو گے اور اسی چیز پر تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کی طرف سے بھی بیعت کرو گے۔اس پر وہ کہتے ہاں۔481 حضرت خالد نے اسد ، غطفان، ہوازن ، سلیم اور کلے میں سے کسی کی بیعت قبول نہیں کی سوائے اس کے کہ وہ ان تمام لوگوں کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں جنہوں نے ارتداد کی حالت میں اپنے ہاں کے مسلمانوں کو آگ میں جلایا تھا اور ان کا مثلہ کیا تھا اور مسلمانوں پر چڑھائی کی تھی۔حضرت خالد نے ان سے یہ بیعت اس صورت میں لی کہ اپنے ان لوگوں کو ہمارے سپر د کرو جنہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، قتل کیا، ان کے گھروں کو آگ لگائی۔مسلمانوں کو آگ میں جلایا۔پھر ان کا مثلہ کیا اور آگ میں جلایا۔یہ ساری باتیں کیں۔انہوں نے کہا ہمارے حوالے کرو گے پھر تمہاری بیعت قبول کی جائے گی۔وہ ملزمان جو ہیں، سارے مجرم جو ہیں وہ سب پیش ہوں۔پس ان تمام قبائل نے ان لوگوں کو حضرت خالد کے سپر د کر دیا تو حضرت خالد نے ان قبائل کی بیعت کو قبول کر لیا اور جن لوگوں نے مسلمانوں پر مظالم کیے تھے ظلم کرنے والے جو لوگ تھے ان کے اعضاء بھی قطع کرا دیے اور ان کو آگ میں بھی جلایا گیا۔482 بہر حال جو ظلم انہوں نے مسلمانوں پر کیے تھے جیسا کہ گذشتہ خطبہ میں میں بیان کر چکا ہوں سزا کے طور پر ان سے اسی طرح سلوک کیا گیا۔حضرت ابو بکر کی خدمت میں حضرت خالد کے ایک خط کا ذکر ہے۔قره بن هبيره اور عیینہ بن حصن کو قید کر کے مدینہ روانہ کرنا حضرت خالد بن ولید نے قرہ بن ہبیرہ اور اس کے چند ساتھیوں کو رسیوں سے باندھ دیا اور پھر قرہ اور دوسرے قیدیوں کو حضرت خالد نے حضرت ابو بکر کے پاس روانہ کیا اور آپ کی خدمت میں لکھا کہ بنو عامر اسلام سے روگردانی اور انتظار کے بعد پھر سے اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔جن قبائل سے میری جنگ ہوئی یا جن سے بغیر جنگ کے مصالحت ہوئی میں نے ان سب سے کسی کی بیعت قبول نہیں کی یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کو میرے پاس لائیں جنہوں نے مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم کیے تھے۔میں نے ان کو قتل کر دیا۔فخرہ اور اس کے ساتھیوں کو آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔حضرت ابو بکڑ نے بھی حضرت خالد کے نام ایک خط لکھا جو نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابو بکر نے اس خط کے جواب میں حضرت خالد کو لکھا کہ جو کچھ تم نے کیا اور جو کامیابی تم کو حاصل ہوئی اللہ تم کو