اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 187
اصحاب بدر جلد 2 187 حضرت ابو بکر صدیق کو قبول کر لیں تو ان لوگوں سے لڑائی سے رک جائے اور اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو ان پر فی الفور حملہ کرے یہاں تک کہ اس کے سامنے جھک جائیں۔پھر وہ ان لوگوں کو ان کے حقوق اور فرائض بتائے اور وہ ان سے وصول کرے جو اُن پر فرض ہے اور انہیں دے جو اُن کے حقوق ہیں۔وہ ان لوگوں کو مہلت نہ دے یعنی ایسی مہلت جس سے وہ جنگ کے لیے تیار ہو کر مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔وہ مسلمانوں کو ان کے دشمنوں سے لڑائی کرنے سے نہ روکے اور مسلمان اگر سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ باز نہیں آئیں گے اور وہ لڑنا چاہتے ہیں تو ان کو جنگ سے نہ روکو۔یہ حکم ان لیڈروں کو دیا جنہیں اس علاقے کے لوگ زیادہ جانتے تھے۔پس جس نے اللہ عزوجل کے حکم کو قبول کیا اور اس کی فرمانبرداری کی تو اس کی یہ بات قبول کرے اور معروف طریق پر اس کی مدد کرے اور صرف اس سے جنگ کی جائے گی جس نے اس اقرار کے بعد اللہ کا انکار کیا کہ جو اللہ کی جانب سے آیا تھا۔اگر وہ دعوت کو قبول کر لے تو اس پر کوئی الزام نہیں ہو گا اور اللہ اس سے حساب لینے والا ہے بعد اس کے جو اس نے چھپایا۔اور جس نے اللہ کے پیغام کو قبول نہ کیا تو اس سے لڑائی کی جائے اور اس کو قتل کر دیا جائے جہاں بھی وہ ہو اور وہ خواہ کتنا ہی مال دار کیوں نہ ہو۔کسی سے کوئی چیز قبول نہ کی جائے گی جو وہ دے سوائے اسلام کے۔پس جس نے اسلام قبول کر لیا اور اقرار کر لیا تو اس سے قبول کیا جائے اور اس کو اسلامی تعلیمات سکھائی جائیں اور جس نے انکار کیا یعنی مسلمان ہو کے مرتد ہو گئے۔پھر لڑائیاں کر رہے ہیں تو اسلامی تعلیمات کے خلاف کر رہے ہیں ان کو بتاؤ کہ اسلام کیا ہے، حقیقت کیا ہے، تم مسلمان ہونے کا دعویٰ کر کے پھر حکومت کے خلاف جنگ نہیں لڑسکتے۔جس نے انکار کیا تو اس سے لڑائی کی جائے۔اگر اللہ اسے ان پر فتح عطا کرے تو ان کو بُری طرح اسلحہ اور آگ کے ذریعہ قتل کیا جائے گا۔پھر اللہ جو اس کو مال کے عطا فرمائے تو وہ اس کو تقسیم کر دے سوائے خمس کے۔وہ ہمیں پہنچائے گا۔اور وہ سپہ سالار اپنے ساتھیوں کو جلدی اور فساد سے روکے اور ان میں کوئی غیر آدمی داخل نہ کرے جب تک کہ وہ جان نہ لے کہ اس میں کیسی صلاحیت ہے۔یہ نہ ہو کہ وہ جاسوس ہو۔یعنی کسی شخص کو داخل کر لو اور وہ جاسوس ہو۔( صحیح طرح چھان کر کے ، چھان پھٹک کر کے پھر لینا) اور ان کی وجہ سے مسلمانوں پر مصیبت آجائے۔سفر اور قیام میں مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور میانہ روی اختیار کرے اور ان کی خبر گیری کرتا رہے۔لشکر کے ایک حصہ کو دوسرے سے جلدی کرنے کا حکم نہ دے۔مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ اور گفتار میں خوش خلقی اور ملائم لہجہ اختیار کرے۔466 اب بعض باتیں ایسی بھی ہیں جن کی وضاحت کرنی پڑتی ہے لیکن وضاحت نہیں کی گئی۔اس وجہ سے بعض دفعہ اسلام کا غلط تاثر بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اس کی وضاحت گذشتہ خطبہ میں میں کر چکا ہوں کہ یہ سب مرتدین ایسے تھے جنہوں نے جنگ کی، محارب تھے اور نہ صرف جنگ کی بلکہ جو مسلمان ان کے علاقوں میں تھے ان پر انہوں نے ظلم بھی کیا، ان کو مارا، ان کو جلایا۔ان کے گھروں کو جلایا، ان کو خو د بھی جلا دیا۔تو ان کے خلاف پھر حضرت ابو بکر نے کہا کہ ضرور بدلہ لینا ہے اور ان کو اسی طریق سے پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی خط کو Quote کیا ہے کہ اسی طریق سے پھر ان کو بھی سزا دینی ہے