اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 186
اصحاب بدر جلد 2 186 حضرت ابو بکر صدیق بیٹھو گے جبکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ظالموں کے لئے تو یہ بہت ہی بُرا بدل ہے۔نيز فرمايا : إِنَّ الشَّيطنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوا إِنَّمَا يَدْعُوا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَب السعير (فاطر (7) يقيناً شیطان تمہارا دشمن ہے پس اسے دشمن ہی بنائے رکھو۔وہ اپنے گروہ کو محض اس لئے بلاتا ہے تاکہ وہ بھڑکتی آگ میں پڑنے والوں میں سے ہو جائیں۔آپ اس خط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اور میں نے مہاجرین انصار اور حسن عمل سے پیروی کرنے والے تابعین کے لشکر پر فلاں آدمی کو مقرر کر کے تمہاری طرف بھیجا ہے اور میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ نہ تو کسی سے جنگ کرے اور نہ اسے اس وقت تک قتل کرے جب تک وہ اللہ کے پیغام کی طرف بلانہ لے۔پھر جو اس پیغام کو قبول کرلے اور اقرار کرلے اور باز آجائے اور نیک عمل کرے تو اس سے قبول کرے اور اس پر اس کی مدد کرے اور جس نے انکار کیا تو میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اس سے اس بات پر جنگ کرے اور جس پر قابو پائے ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی رہنے نہ دے اور یا وہ انہیں آگ سے جلا ڈالے اور ہر طریق سے انہیں قتل کرے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالے اور کسی سے اسلام سے کم کوئی چیز قبول نہ کرے۔پھر جو اس کی اتباع کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور جس نے اسے ترک کیا تو وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکے گا اور میں نے اپنے پیغامبر کو حکم دیا ہے کہ وہ میرے اس خط کو تمہارے ہر مجمع میں پڑھ کر سنادے اور اذان ہی اسلام کا اعلان ہے۔پس جب مسلمان اذان دیں اور وہ بھی اذان دے دیں تو ان پر حملہ سے رک جائیں اور اگر وہ اذان نہ دیں تو ان پر حملہ جلد کرو اور جب وہ اذان دے دیں تو جو اُن پر فرائض ہیں ان کا مطالبہ کرو اور اگر وہ انکار کریں تو ان پر جلد حملہ کرو اور اگر اقرار کر لیں تو ان سے قبول کر لیا جائے۔465 بہر حال اس بارے میں جو تفصیل تھی کہ کیوں ان سے جنگ ہوئی اور کیوں سب سے یہ سلوک کیا گیا، تو یہ اس لیے کہ یہ لوگ جنگ کرنے والے تھے۔مسلمانوں پر جنگ ٹھونسنے والے تھے اور نہ صرف جنگ کرتے تھے بلکہ ظلم بھی کرنے والے تھے اور جو اُن کے علاقوں میں نہتے مسلمان تھے ان پر ظلم کر رہے تھے۔دوسرا خط جو حضرت ابو بکر نے ان سب امرائے لشکر جن کی تعداد گیارہ تھی کے نام تحریر فرمایا ان امر اکا ذکر ہو چکا ہے۔وہ خط ان لشکروں کے امرا کے نام تھا۔وہ حسب ذیل ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ یہ فرمان ابو بکر خلیفہ رسول صلی علیم کی طرف سے فلاں شخص کے لیے لکھا گیا ہے اور جب انہوں نے اسے مسلمانوں کی فوج کے ساتھ مرتدین سے لڑنے کے لیے روانہ کیا یعنی امیر کا نام اس پہ لکھا گیا تھا۔انہوں نے اس امیر کو تاکیدی حکم دیا ہے کہ وہ ہر معاملے میں ظاہر اور باہر میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرے جہاں تک اس کی استطاعت ہے اور اس کو اللہ کے معاملے میں جد وجہد کا اور ان لوگوں سے جہاد کا حکم دیا ہے جنہوں نے اللہ سے پیٹھ پھیر لی اور اسلام سے رجوع کرتے ہوئے شیطانی آرزوؤں کو اختیار کر لیا ہے۔سب سے پہلے ان پر اتمام حجت کرے۔انہیں اسلام کی طرف دعوت دیں۔اگر وہ اس