اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 163
حاب بدر جلد 2 163 حضرت ابو بکر صدیق نہیں دیتا تو میں تلوار کے زور سے لوں گا۔حضرت عمر ایسے جری و بہادر نے بھی رائے دی کہ اس وقت مصلحت وقت نہیں کہ زکوۃ پر زور دیا جائے مگر آپ نے ان کی ایک نہ مانی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ 42866 زکوۃ کس قدر ضروری ہے۔یہ بات جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائی ہے یہ اپنی ایک تقریر کے دوران بیان فرمائی تھی جس میں تقویٰ کے مدارج بیان کیے تھے۔اس میں بیان فرمارہے تھے کہ تقویٰ کے کون سے مدارج ہیں، زکوۃ کی کتنی اہمیت ہے اور تقویٰ پر چلنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے اور آپ نے وہاں یہ بھی فرمایا تھا کہ احمدیوں کو بھی اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ زکوۃ کتنی ضروری ہے اور اس کا با قاعدہ اہتمام کرنا چاہیے۔429 پھر ایک جگہ زکوۃ کے مسئلے کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ” ایک بہت اہم مسئلہ زکوۃ کا ہے لیکن لوگوں نے اس کو سمجھا نہیں۔خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد اس کا حکم دیا ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں زکوۃ نہ دینے والوں سے وہی سلوک کروں گا جو آنحضرت صلی علی کم کفار سے کرتے تھے۔ایسے لوگوں کے مرد غلام بنالوں گا اور ان کی عور تیں لونڈیاں۔آنحضرت صلی اللہ یکم کی وفات کے بعد ایسا ابتلا آیا تھا کہ عرب کے تین شہروں مکہ ، مدینہ اور ایک اور شہر کے علاوہ سب علاقہ عرب کامر تد ہو گیا۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اچھا جو لوگ زکوۃ کے منکر ہیں ان سے صلح کر لیں۔پہلے دوسرے مرتدین سے جنگ ہو جائے تو رفتہ رفتہ ان کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔اول ضرورت یہی ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ ان کا فتنہ سخت ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا اگر لوگ نبکری کا بچہ یا اونٹ کے گھٹنہ باندھنے کی رسی کے برابر بھی زکوۃ کے مال میں سے ادا نہ کریں گے جو آنحضرت صلی ا یلم کو ادا کرتے تھے تو میں ان سے جنگ کروں گا اور اگر تم لوگ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور جنگل کے درندے بھی مرتدین کے ساتھ مل کر حملہ کریں گے تو میں ان سے اکیلا لڑوں گا۔“ یہ بھی خلافت کی برکات میں سے ہے کہ شریعت کو قائم کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور خلیفہ وقت پوری کوشش کرتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ ایک اور جگہ بیان فرماتے ہیں۔ایک اور اعتراض لوگ کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے اس کا جواب بھی تیرہ سو سال سے پہلے ہی دے دیا ہے۔اعتراض کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ شَاوِرُهُمْ في الأمرِ تو آنحضرت صلی للہ ہم کو حکم ہے خلافت کہاں سے نکل آئی؟ خلافت کے لیے تو یہ حکم نہیں ہے۔لیکن یہ لوگ یادر کھیں کہ حضرت ابو بکر پر جب زکوة کے متعلق اعتراض ہوا تو وہ بھی اسی رنگ کا تھا کہ خُذُ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تو نبی کریم صلی الم کو حکم ہے۔ہاں یہ تو حکم نبی کریم صلی للی کم کو ہوا ہے۔اب وہ رہے نہیں اور کسی کو حق نہیں کہ وہ صدقات وصول کرے۔جسے لینے کا حکم تھا وہ فوت ہو گیا۔حضرت ابو بکر نے یہی جواب دیا کہ اب میں مخاطب ہوں۔یعنی حضرت ابو بکر اب مخاطب ہیں۔آنحضرت صلی یہ کام فوت ہو گئے ، شریعت تو قائم ہے اس لیے اب خلیفہ وقت مخاطب ہے اور حضرت مصلح موعودؓ جب یہ تقریر فرمارہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اسی کا 430❝