اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 143
اصحاب بدر جلد 2 143 حضرت ابو بکر صدیق مشکل جو بیان کی گئی تھی وہ آنحضرت علی ایم کی وفات کا غم تھا جو ہر مسلمان کو تھا لیکن سب سے بڑھ کر حضرت ابو بکر جو بچپن کے ساتھی تھے ان کو بہت زیادہ دکھ تھا اور اس کے علاوہ ان کا وفا کا جو مقام تھا اور بیعت کی گہرائی میں جا کر اس کا ادراک تھا وہ کسی اور کو تو نہیں تھا لیکن اس وقت انہوں نے بڑی جرآت کا مظاہرہ کیا، ایمان کا مظاہرہ کیا۔یہ بیان ہوا ہے کہ پہلا نازک اور ہولناک مرحلہ تو آنحضرت صلی ایم کی وفات کا صدمہ تھا کہ جس سے سارے صحابہ مارے غم کے دیوانے ہو رہے تھے۔موت کے اس اچانک صدمے سے کوئی سنبھل نہیں پا رہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ کم کی جدائی کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔آپ ملی لی نام کی وفات کا حادثہ اس قدر شدید اور المناک تھا کہ بڑے بڑے صحابہ مارے غم کے حواس کھو بیٹھے تھے۔حضرت عمر جیسے بہادر کا محبت کی اس دیوانگی میں اور بھی برا حال تھا۔وہ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ محمد صلی علی کی وفات پاگئے ہیں تو میں اس کا سر تن سے جدا کر دوں گا اور یہ ایک ایسارڈ عمل تھا کہ مسلمان اس بات کو سن کر اس شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے تھے کہ کیا آنحضرت صلی الیکم واقعی فوت ہو گئے ہیں کہ نہیں۔اور قریب تھا کہ یہ عشاق نبی اکرم صلی الم کی محبت میں توحید کے بنیادی سبق کو بھولتے ہوئے یہ کہنے لگ جاتے کہ نہیں آنحضرت ملا یہ کمی بھی فوت نہیں ہو سکتے اور نہ ہی فوت ہوئے ہیں۔اس وقت حضرت ابو بکر صدیق مسجد نبوی میں تشریف لائے اور وہاں جمع شدہ سب لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔اے لوگو ! مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدِّمَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ الله حي لا يموت۔جو شخص محمد رسول اللہ صلی الم کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد صلی ا یم فوت ہو چکے ہیں اور جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کر تا تھا وہ خوش ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور بھی فوت نہیں ہو گا۔باوجود بے انتہا محبت کے جو آنحضرت صلی للی کمر سے آپ کو تھی جس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا لیکن توحید کا درس آپ نے دیا۔الله پھر فرمایا۔وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى اعْقَابِكُم (آل عمران :145) کہ محمد صلی ا یہ کام صرف اللہ کے ایک رسول تھے اور آپ سے پہلے جتنے رسول گزرے ہیں سب فوت ہو چکے ہیں۔پھر آپ کیوں نہ فوت ہوں گے۔اگر آپ فوت ہو جائیں گے یا قتل کیے جائیں گے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور اسلام کو چھوڑ دو گے؟ اس طرح حضرت ابو بکر نے کمال ہمت اور حکمت سے اس وقت غم کی اس کیفیت میں صحابہ کی ڈھارس بندھائی اور غم کے مارے ان عشاق کے دلوں پر مرہم لگانے کا سبب بنے اور دوسری طرف توحید کی لرزتی ہوئی عمارت کو سنبھالا دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق جس میں آپ فرماتے ہیں اور پھر وہ خیالات جو آنحضرت صلی علیہ یکم کی زندگی کے بارے میں بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہو گئے تھے ایک عام جلسہ میں قرآن شریف کی آیت کا حوالہ دے کر ان تمام خیالات کو دور کر دیا اور ساتھ ہی اس غلط خیال کی بھی بیخ کنی کر دی جو حضرت مسیح کی حیات کی نسبت احادیث نبویہ میں پوری غور نہ کرنے کی وجہ سے بعض کے دلوں میں پایا جاتا تھا۔374<<