اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 116

محاب بدر جلد 2 116 حضرت ابو بکر صدیق بھی اپنے زیورات پیش کیے اور حضرت عاصم بن عدی نے ستر وسق کھجوریں پیش کیں جو تقریباً دو سو باسٹھ 316 من کے قریب بنتی ہیں۔اس کی چالیس کلو کے قریب تو ایک من شمار کریں قریباً کوئی ڈیڑھ ہزار ایک ٹن سے اوپر بنتی ہیں۔تقریباً ڈیڑھ ٹن کے قریب۔زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی علیم نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم صدقہ کریں اور اس وقت میرے پاس مال تھا۔میں نے کہا آج کے دن میں ابو بکر سے سبقت لے جاؤں گا۔اگر میں ان سے کبھی سبقت لے جا سکا تو آج کا دن ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہا میں اپنا نصف مال لایا تو رسول اللہ صلی علی یم نے فرمایا تم اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ حضرت عمرؓ نے کہا میں نے عرض کیا کہ اتنا ہی اور۔جتنا لایا ہوں اتنا ہی گھر والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔پھر حضرت ابو بکر آئے تو حضرت عمر کہتے ہیں کہ وہ سب لے آئے جو اُن کے پاس تھا تو آپ صلی امی ہم نے فرمایا اے ابو بکر ! تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی غیر کم کو چھوڑا ہے۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے کہا۔اللہ کی قسم! میں ان سے کسی چیز میں کبھی بھی سبقت نہیں الله سة لے جاسکتا۔317 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ الہی دین پر لوگ اپنی جانوں کو بھیڑ بکری کی طرح شار کرتے تھے۔مالوں کا تو کیا ذکر ، حضرت ابو بکر صدیق نے ایک سے زیادہ دفعہ اپنا گل گھر بار نثار کیا حتی کہ سوئی تک کو بھی اپنے گھر میں نہ رکھا اور ایسا ہی حضرت عمرؓ نے اپنی بساط اور انشراح کے موافق اور عثمان نے اپنی طاقت و حیثیت کے موافق على هَذَا الْقِيَاسِ عَلَى قَبْرِ مَرَاتِبِ تمام صحابہ اپنی جانوں اور مالوں سمیت اس دین الہی پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیعت کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کر جاتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم کریں گے مگر مدد اور امداد کے موقع پر اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑے رکھتے ہیں۔بھلا ایسی محبت دنیا سے کوئی دینی مقصد پا سکتا ہے اور کیا ایسے لوگوں کا وجو د کچھ بھی نفع رساں ہو سکتا ہے۔ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحبون کہ جب تک مال جو تمہیں پیارا ہے اس کو خرچ نہیں کروگے اس وقت تک تمہاری نیکی نیکیاں نہیں ہیں۔318 حضرت ابو بکر غیا آنحضرت علی ایم کے ساتھ مل کر ایک صحابی کو دفن کرنا: اس بارے میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ تھا کہ ایک مرتبہ میں آدھی رات کے وقت اٹھا تو میں نے لشکر کے ایک طرف آگ کی روشنی دیکھی۔چنانچہ میں اس کی