اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 107
باب بدر جلد 2 107 حضرت ابو بکر صدیق غزوة فتح محکمہ دو۔287 غزوہ فتح مکہ ، اس غزوہ کو غَزْوَةُ الْفَتْحِ الأَعْظَم بھی کہتے ہیں۔غزوہ مکہ رمضان آٹھ ہجری میں ہوا۔تاریخ طبری میں بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی علیم نے لوگوں کو سفر کی تیاری کا ارشاد فرمایا تو آپ صلی علیہ ہم نے اپنے گھر والوں سے فرمایا۔میر اسامان بھی تیار کر حضرت ابو بکر اپنی بیٹی حضرت عائشہ کے پاس داخل ہوئے، ان کے گھر گئے۔اس وقت حضرت عائشہ رسول اللہ صلی علیم کے سامان کو تیار کر رہی تھیں۔حضرت ابو بکڑ نے پوچھا اے میری بیٹی ! کیارسول اللہ صل اللوم نے تمہیں کچھ ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضور صلی علیہ ظلم کا سامان تیار کرو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔حضرت ابو بکر نے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے کہ آنحضور صلی للی کم کا ارادہ کہاں جانے کا ہے ؟ حضرت عائشہ نے کہا میں بالکل نہیں جانتی۔پھر رسول اللہ صلی الیم نے لوگوں کو بتا دیا کہ آپ صلی تین کم مکہ کی طرف جارہے ہیں اور آپ نے انہیں فوراً انتظام کرنے اور تیار ہونے کا ارشاد فرمایا اور دعا کی کہ اے اللہ ! قریش کے جاسوسوں کو اور ان کے مخبروں کو روکے رکھ یہاں تک کہ ہم ان لوگوں کو ان کے علاقوں میں اچانک پا لیں۔اس پر لوگوں نے تیاری شروع کر دی۔288 اس واقعہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سیرت حلبیہ میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابو بکر حضرت عائشہ سے استفسار فرمارہے تھے تو اسی وقت رسول کریم صلی ہی ہم وہاں تشریف لے آئے۔حضرت ابو بکر نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے سفر کا ارادہ فرمایا ہے ؟ آپ صلی ایم نے فرمایا ہاں۔تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا تو پھر میں بھی تیاری کروں ؟ آپ صلی الیم نے فرمایا کہ ہاں۔حضرت ابو بکر نے دریافت کیا یار سول اللہ ! آپ نے کہاں کا ارادہ فرمایا ہے ؟ آپ نے فرمایا قریش کے مقابلہ کا مگر ساتھ ہی یہ فرمایا کہ ابو بکر اس بات کو ابھی پوشیدہ ہی رکھنا۔غرض آنحضرت صلی اینم نے لوگوں کو تیاری کا حکم دیا مگر آپ مصلی میں ہم نے ان کو اس سے بے خبر رکھا کہ آپ مئی میں کام کا کہاں جانے کا ارادہ ہے۔حضرت ابو بکر نے آپ سے عرض کیا یارسول اللہ صلی علی کی کیا قریش اور ہمارے درمیان ابھی معاہدے اور صلح کی مدت باقی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ہاں مگر انہوں نے غداری کی ہے اور معاہدے کو توڑ دیا ہے مگر میں نے تم سے جو کچھ کہا ہے اس کو راز ہی رکھنا۔ایک روایت میں یوں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ نے آپ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی علیکم کیا آپ نے کسی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا ہے ؟ آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا ہاں۔حضرت ابو بکر نے کہا شاید آپ بنو اصفر یعنی رومیوں کی طرف کوچ کا ارادہ فرمارہے ہیں؟ آپ صلی علیہ کم نے فرمایا نہیں۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا تو کیا پھر سجد کی طرف کوچ کا ارادہ ہے ؟ آپ صلی علی کریم نے فرمایا نہیں۔حضرت ابو بکر نے کہا پھر شاید آپ قریش کی طرف روانگی کا ارادہ فرمارہے ہیں ؟ آپ صلی علی کرم نے فرمایا ہاں۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مگر آپ کے اور ان کے درمیان تو ابھی صلح نامہ کی مدت باقی ہے۔آپ صلی الیہ کم صا الله سر