اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 83
محاب بدر جلد 2 83 حضرت ابو بکر صدیق سے آپ کی چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر بلند آواز سے پکارا اے مسلمانو ! خوش ہو جاؤ، رسول اللہ صلی علیکم ہیں۔یہ سن کر رسول اللہ صلی ایم نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ خاموش رہو۔جب مسلمانوں نے رسول اللہ صلی علیکم کو پہچان لیا تو آپ صلی لی لکم ان کے ہمراہ گھائی کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمرؓ، حضرت علی، حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت حَارِث بن صمہ وغیرہ صحابہ کرام تھے۔231 احد کے دن موت پر بیعت کرنے والوں میں سے حضرت ابو بکر۔۔۔رسول اللہ صلی ا لم نے احد کے دن اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے موت پر بیعت لی۔جب بظاہر مسلمانوں کی پسپائی ہوئی تھی تو وہ ثابت قدم رہے اور اپنی جان پر کھیل کر آپ صلی اللہ نیم کا دفاع کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ شہید ہو گئے۔ان بیعت کرنے والے خوش نصیبوں میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمررؓ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابو دجانہ شامل تھے۔232 غزوہ احد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مزید لکھا ہے کہ ”جو صحابہ آنحضرت صلی ایم کے گرد جمع تھے انہوں نے جو جان نثاریاں دکھائیں تاریخ ان کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔یہ لوگ پروانوں کی طرح آپ کے ارد گرد گھومتے تھے اور آپ کی خاطر اپنی جان پر کھیل رہے تھے۔جو وار بھی پڑتا تھا صحابہ اپنے اوپر لیتے تھے اور آنحضرت صلی علیہم کو بچاتے تھے اور ساتھ ہی دشمن پر بھی وار کرتے جاتے تھے۔حضرت علی اور زبیر نے بے تحاشا دشمن پر حملے کئے اور ان کی صفوں کو دھکیل دھکیل دیا۔ابو طلحہ انصاری نے تیر چلاتے چلاتے تین کمانیں توڑیں اور دشمن کے تیروں کے مقابل پرسینہ سپر ہو کر آنحضرت صلی علیکم کے بدن کو اپنی ڈھال سے چھپایا۔سعد بن ابی وقاص کو آنحضرت صلی علیکم خود تیر پکڑاتے جاتے تھے اور سعدیہ تیر دشمن پر بے تحاشا چلاتے جاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے سعد سے فرمایا۔تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔برابر تیر چلاتے جاؤ۔سعد اپنی آخری عمر تک آپ کے ان الفاظ کو نہایت فخر کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔ابو دجانہ نے بڑی دیر تک آپ کے جسم کو اپنے جسم سے چھپائے رکھا اور جو تیر یا پتھر آتا تھا اسے اپنے جسم پر لیتے تھے حتی کہ ان کا بدن تیروں سے چھلنی ہو گیا مگر انہوں نے اف تک نہیں کی تا ایسا نہ ہو کہ ان کے بدن میں حرکت پیدا ہونے سے آنحضرت صلی ال نیم کے جسم کا کوئی حصہ نگا ہو جاوے اور آپ کو کوئی تیر آلگے۔طلحہ نے آنحضرت علی ایم کو بچانے کے لئے کئی وار اپنے بدن پر لئے اور اسی کوشش میں ان کا ہاتھ شل ہو کر ہمیشہ کے لئے بیکار ہو گیا مگر یہ چند گنتی کے جاں شمار اس سیلاب عظیم کے سامنے کب تک ٹھہر سکتے تھے جو ہر لحظہ مہیب موجوں کی طرح چاروں طرف سے بڑھتا چلا آتا تھا۔دشمن کے ہر حملہ کی ہر ہر مسلمانوں کو کہیں کا کہیں بہا کر لے جائی تھی مگر جب ذرا زور تھمتا تھا مسلمان بیچارے لڑتے بھڑتے پھر اپنے محبوب آقا کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔بعض اوقات تو ایسا خطرناک حملہ ہوتا تھا کہ آنحضرت صلی علیہ کی عملاً اکیلے رہ جاتے تھے۔چنانچہ ایک وقت