اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 434
اصحاب بدر جلد 2 434 حضرت ابو بکر صدیق انتہائی مصیبت کا دور تھا۔لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا سارا مال لے آئے“ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ ”حضرت ابو بکر اپنا سارا اثاثہ حتی کہ لحاف اور چار پائیاں بھی اٹھا کر لے آئے۔“ بہر حال ” اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔“ سارا مال۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ابو بکر اگھر میں کیا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔یہ سن کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور میں نے سمجھا کہ آج میں نے سارا زور لگا کر ابو بکڑ سے بڑھنا چاہا تھا مگر آج بھی مجھ سے ابو بکر بڑھ گئے۔“ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کوئی کہے کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا سارا مال لے آئے تھے تو پھر گھر والوں کے لئے انہوں نے کیا چھوڑا؟ اس کے متعلق یادرکھنا چاہئے کہ اس سے مراد گھر کا سارا اندوختہ تھا۔وہ تاجر تھے اور جو مال تجارت میں لگا ہوا تھا وہ نہیں لائے تھے اور نہ مکان بیچ کر آگئے تھے۔007 ابلکہ وہ گھر کا سامان لے کے آئے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دو کمال ظاہر ہوتے ہیں ایک یہ کہ وہ قربانی میں سب سے آگے بڑھ گئے اور دوسرے یہ کہ باوجود اپنا سارا مال لانے کے پھر سب سے پہلے پہنچ گئے اور جنہوں نے تھوڑا دیا تھا وہ اس فکر میں ہی رہے کہ کتنا گھر میں رکھیں اور کتنا لائیں۔مگر باوجود اس کے حضرت ابو بکر کے متعلق یہ کہیں نہیں آتا کہ انہوں نے دوسروں پر اعتراض کیا ہو۔“ سارا کچھ لے آئے لیکن یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے اعتراض کیا۔دیکھو میں لے آیا ہوں اور وہ دوسرے نہیں لے کے آتے۔1008 ”حضرت ابو بکر قربانی کر کے بھی یہ سمجھتے تھے کہ ابھی خدا کا میں دیندار ہوں اور میں نے کوئی اللہ تعالیٰ پر احسان نہیں کیا بلکہ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے توفیق دی ہے۔پس حضرت مصلح موعود اس ضمن میں بیان فرما رہے ہیں کہ مالی قربانی کرنے والوں کو اپنا دیکھنا چاہیے۔ان منافقوں کی طرح نہیں ہونا چاہیے جو خود بھی چندہ نہیں دیتے اور اگر تھوڑا سا دے دیں تو دوسروں پہ اعتراض کرتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے کم دیا اور فلاں نے اتنا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ”صحابہ کی تو وہ پاک جماعت تھی۔جس کی تعریف میں قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔کیا آپ لوگ ایسے ہیں ؟ جب خدا کہتا ہے کہ حضرت مسیح کے ساتھ وہ لوگ ہوں گے۔جو صحابہ کے دوش بدوش ہوں گے۔صحابہ تو وہ تھے۔جنہوں نے اپنا مال، اپنا وطن راہِ حق میں دے دیا۔اور سب کچھ چھوڑ دیا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سنا ہو گا۔ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہو اتو گھر کا کل اثاثہ لے آئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے تو فرمایا کہ خدا اور رسول کو گھر میں چھوڑ آیا ہوں۔رئیس مکہ ہو اور کمبل پوش۔غربا کالباس پہنے۔یہ سمجھ لو کہ وہ لوگ تو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے۔